حضرت عمرنے جہنم کی آگ کے بارے میں کیا فرمایا

ابن ماجہ اور حاکم کی روایت ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ یہ صحیح ہے تم لوگوں کی یہ آ گ آتش دوزخ سے ستر گنا کم تیزی والی ہے اس کو اگر رحمت کے پانی سے دو بار بجھا نہ دیا جاتا تو یہ ہم تمہارے واسطے پیدا نہ ہو سکتی تھی اور یہ اللہ سے دعا مانگتی رہتی ہے کہ دوبارہ مجھے جہنم میں نہ بھیجا جائے۔

بیقہی میں ہے کہ حضرت عمر نے اس آیہ کریمہ کو پڑھا۔( جس وقت ان کی کھالیں گل سڑ جائیں گی ہم ان کی کھالیں دوبارہ تبدیل کر دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھیں)۔اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا اے کعب اس کی تفسیر بیان کروں اگر آپ سچ کہیں گے تو میں بھی تمہاری تقریر کی تصدیق کروں گا اور اگر غلط بیان کیا تو میں تردید کروں گا انہوں نے کہا ابن آدم کی جلد کو ایک سال کے اندر جلا کر پھر نیا کیا جائے گا یا ایک یوم میں 6 ہزار مرتبہ جلایا جائے گا اور بنایا جائے گا آپ نے فرمایا تم نے سچ بتایا ہے۔

بیقہی شریف میں ہے کہ مندرجہ بالا آیات کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ان کو روزانہ دوزخ کی آگ سترمرتبہ کھایا کرے گی جب کھا لیا کرے گی تو انہیں کہا جائے گا پھر اسی طرح ہی ہو جاؤں تو پہلے کے مانند ھی ہو جایا کریں گے۔ایک ایسا انسان جو دنیا کی تمام نعمتوں سے مالامال رہا ہوگا اور وہ دوزخی ہوگا اسے وہاں لایا جائے گا اور آتش کے اندر غوطہ لگوائیں گے پھر اس سے پوچھا جائے گا اے ابن آدم کبھی آرام بھی تو نے چکھا ہے کیا تو نے کبھی کوئی نعمت بھی پائی ہے تو وہ جواب میں کہے گا کہ واللہ کبھی نہیں پروردگار تعالیٰ۔ اور جنتیوں میں سے جس نے دنیا میں سخت تکلیف پائی ہوگی وہ لایا جائے گا اس کو جنت میں ایک ڈبکی لگائی جائے گی اور پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم تجھے کبھی کوئی تکلیف بھی ہوئی ہے تو وہ جواب دے گا واللہ نہیں پروردگار تعالیٰ مجھے کبھی کوئی دکھ نہیں پہنچا نہ ہی کبھی کوئی تکلیف ہی میں نے دیکھی ہے۔

ابن ماجہ میں مروی ہے کہ اہل دوزخ پر رونا طاری کیا جائے گا وہ روتے رہ جائیں گے حتی کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اس کے بعد وہ خون رونے لگیں گے جب تک ان کے ان چہروں پر کھائیاں نہ بن جائیں گی کہ ان میں کشتیاں ڈالے تو وہ بہنے لگیں۔ابو یعلیٰ کی روایت ہے کہ اے لوگو رو اور اگر رہ نہیں سکتے تو رونے والی صورتیں بنا لو کیونکہ اہل دوزخ نے آگ کے اندر رونا ہے کہ ان کے آنسو ان کے رخساروں پر بہہ رہے ہوں گے گویا کہ نہریں ہو بالآخر آنسوؤں کا خاتمہ ہو جائے گا پھر خون رونے لگیں گے جس کی وجہ سے اور ان کی آنکھیں زخمی ہوکر رہ جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: