جبرائیل علیہ السلام کیوں رو رہے تھے

راوی بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ بھی رو رہے تھے آپ نے فرمایا اے جبرائیل تم کیوں رو رہے ہو تم سب سے زیادہ بہتر مقام پر ہو انہوں نے عرض کیا میں کس وجہ سے نہ رؤوں مجھے تو زیادہ حق ہے رونے کا ۔

ایسا نہ ہو کہ اللہ کے علم میں میں اپنے اس موجود حال کی بجائے کسی اور حال پر ہوں اور مجھے معلوم نہیں کہیں مجھ پر بھی مانند ابلیس اطلاع وارد نہ ہو جائے اور مجھے کہیں ہاروت ماروت کی طرح مصائب سے دوچار کر دیا جائے۔

یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے اور جبرائیل علیہ السلام بھی روتے تھے دونوں ہی روتے رہے بالآخر ندا سنائی دی اے جبرائیل علیہ السلام اور ا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں حضرات کے لئے اللہ نے نا فرمانی سے حفاظت فرمادی ہے تو جبریل علیہ السلام رخصت ہوگئے اور صلی اللہ علیہ وسلم باہر آگئے۔آنحضرت کا گزر ایک انصار کی جماعت پر ہوا وہ ہنس رہے تھے اور کھیل میں مشغول تھے ۔

آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم ہنستے ہو اورتمہارےپیچھے دوزخ سے اگر تمہیں معلوم ہوتا جو کچھ مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ اور تم کھا پی بھی کچھ نہیں سکتے اور تم ویرانوں کی جانب چلے جاتے اور اللہ کی پناہ کی جستجو کرتے رہتے آواز آئی اےمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بندوں کو مجھ سے ناامید نہ کرو میں نے تجھ کو اچھی خبر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تنگی کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں فرمایا۔

پھر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہوا صراط مستقیم پر ہی قائم رہو اور میانہ روی آپنائے رکھو۔مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا سبب ہے کہ میکائیل علیہ السلام کو کبھی میں نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ہے عرض کیا کہ جس وقت سے دوزخ کی تخلیق ہوئی ہے میکائیل کبھی نہیں ہنسے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: