آپﷺ نے ا پنی امت کے حق میں کونسی دعا کی

ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بنی اسرائیلی شخص کا ذکر کیا گیا۔ وہ ایک ہزار مہینے تک فی سبیل اللہ ہتھیار اٹھائے رہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب فرمایا اور اپنی امت کے حق میں بھی اسی طرح کی نیکی کی آرزو فرمائیں اور دعا فرمائی۔اے پروردگار تعالیٰ تو نےمیری امت کے لوگوں کو سب سے چھوٹی عمریں دی ہے اور اعمال بھی کم کر دیے ہیں تو اللہ نے آنجناب کو قدر والی رات عطا فرما دیں جو بہتر ہے

ان ہزارمہینوں سے جن میں وہ بنی اسرائیل کا آدمی ہتھیار بند رہا فی سبیل اللہ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو تا قیامت یہ موقع عطا فرمایا یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خصوصیات میں سے ہے اس بنی اسرائیلی کا نام شمعون تھا وہ دشمنوں سے ایک ہزار ماہ برسرپیکار رہے تھے جہاد میں کہ ان کے گھوڑے کے بال بھی خشک نہ ہونے پائے تھے اور اللہ نے قوت جو اسے عطا فرمائی تھی اس کے ذریعہ انہیں شکست دے دی اس کے باعث کافر بہت پریشان ہوگئے تھے انہوں نے ایک شخص کو اس کی زوجہ کے پاس بھیج کر ضامن ہو گئے کہ تجھے ہم سونا بھر کر ایک طرف طشت دیں گے اگر تم اسے ہم کو پکڑا دو گی ہم اس کو اپنے مکان میں لے آئیں گے اور اس سے ہمیں امن حاصل ہو جائے گا۔ بس رات ہوگی وہ سو گیا اس کی زوجہ نے اسے رسی کےساتھ باندھا جاگنے پر اس نے اپنے اعضاء کو حرکت دی اور سب رسیاں توڑ دی اور بیوی سے اپنے باندھنے کی وجہ دریافت کی اس نے کہا میں تمہاری قوت دیکھنا چاہتی تھی کفار کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے ایک زنجیر بھیج دیں لیکن اس نے پہلے کی مانند اس زنجیر کو بھی توڑ دیا۔

اب شیطان کو فار کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس کی زوجہ کو کہو کہ کسی نیک شخص سے دریافت کرے کہ یہ کس چیز کو کاٹ نہیں سکتا تاکہ وہ چیز ارسال کی جائے عورت کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ وہ میری زلفیں ہیں اس کے سر پر آٹھ طویل زلفیں تھی جو زمین پر لگتی تھی اب جب وہ سویا تو بیوی نے چار زلفوں سے دونوں ہاتھوں کو اور چاروں زلفوں سے پاؤں کو باندھ دیا بس کافر آگئے۔ انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور ایک مزبح میں لائے وہ چاد صد بلند اور اتنا ہی لمبا چوڑا تھا اس میں ایک ستون بھی تھا انہوں نے اس کے کان اور ہونٹ قطع کردیے سب کافر اس کے سامنے ہی موجود تھے۔ اس نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی یا الہی اس بندھن کو توڑ دینے کی قوت عطا فرما اور اس ستون کو بھی ہلا کر اس کے ان کے اوپر گرا دے اور یوں ان کو ختم فرما اللہ تعالی نے اسے قوت عطا کر دی اس نے حرکت کر کے بندھن کو توڑ ڈالا پھر ستون کو حرکت دی تو ان کے اوپر چھت آ گری۔ وہ تمام کافر اللہ نے ہلاک کر دیئے اور وہ اس طرح بچ گیا اور واپس چلا آیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یہ واقعہ سنا تو عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ اس کا کتنا ثواب ہے آپ نے ارشاد فرمایا مجھے نہیں معلوم۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے قدر والی رات عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: