رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت سعید بن عبد اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انصار کو جب معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبع مبارک بوجھل ہوتی جارہی ہے تو لوگ بے قرار ہو کر مسجد کے گرد پھرنے لگے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت عباس حاضر ہوئے اور آنحضرت کو لوگوں کے غم و اندوہ کے بارے میں بتایا اس کے بعد حضرت علی آگئے انھوں نے بھی وہی صورتحال بیان کی بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا کہ ہاتھ کو پکڑ لو صحابہ نے آنجناب کا ہاتھ تھام لیا آپ نے پوچھا تم لوگ کیا کہتے ہو عرض کیا ہم ڈرتے ہیں کہ آپ وصال پذیر ہو جائیں گے۔

مرد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھے انہوں نے اپنی عورتوں کو انہیں بلانا شروع کر دیا وہ چلا اٹھی یعنی رونا شروع کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی اور حضرت فضل کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے باہر تشریف لائے۔ حضرت عباس آنحضرت کے حضور آگے آرہے تھے۔ آنحضرت اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے اور پاؤں کے ساتھ زمین پر نشان بناتے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپ منبر کے نیچے والی سیڑھی پر آ بیٹھے آپ کے پاس لوگ اکٹھے ہو گئے آپ نے اللہ کی حمد بیان فرمائی اور فرمانے لگے۔

اے لوگو مجھے پتا چلا ہے کہ تمہیں خدشہ ہے میرے وصال پا جانے کا گویا کہ تمہیں موت سے انکار ہے جبکہ تمہارے نبی کا وفات پا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیا میں نے تم کو موت کی خبر نہیں دی ہے اور تم کو خود موت کی خبر نہیں مل چکی ہیں کیا مجھ سے پیشتر والا کوئی نبی زندہ رہا ہے جو بھیجا گیا تھا جو میں بھی اب زندہ ہی رہ جاؤں۔ جان لو کہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے جا ملنا ہے اور تم بھی اس سے ہی جا ملنے والے ہو میں تم کو مہاجرین اولین کے متعلق وصیت کر رہا ہوں اور مہاجرین کو بھی آپس میں ایک دوسرے سے خیر خواہی کی وصیت کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: