ایسے کون سے لوگ ہوں گے

حضرت ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ باطل راہوں سے مراد تمام قوموں اور اہل بدعت اور گمراہ لوگوں کے رستے ہیں جیسے یہودیت عیسائیت اور مجوسیت سوا اسلام کے اسی طرح اسلام سے دستبردار ہوکر بحث و جدال میں الجھنے والے سب لوگ مراد ہے یہ تمام لوگ راہ راست کو چھوڑ گئے اور باطل اعتقادات میں مبتلا ہو کر رہ گئے۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ وہ خواہش جسکی اتباع آسمان کے نیچے ہو اس سے بڑا باطل معبود اور کوئی نہیں ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بہترین کلام کتاب اللہ ہے اور بہترین طریق طریق محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور سب سے زیادہ برے کام محدثات ہیں اور محدث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور مجھے تم پرخدشہ ہے شہوتوں کے متعلق جو تمہارے شکم اور شرم گاہوں اور خواہشوں کو گمراہ کر دینے والی باتوں میں ہے تم بچ کر رہو محدثات سے کیوں کہ ہر محدثہ گمراہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کسی بدعتی شخص کا روزہ عند اللہ قبول نہیں نہ حج اور نہ عمرہ نہ جہاد اور نہ کوئی فرض اور نفل قبول ہے اسلام سے وہ یوں خارج ہو جاتا ہے جس طرح بال باہر نکل جاتا ہے گوندھے ہوئے آٹے میں سے تم کو سفید طریق پر چھوڑا کہ اس کی شب بھی واضح اور روشن ہے مانند دن کے اس سے گمراہ ہونے والا ہلاک ہوجائے گا ہر رگ میں ایک تڑپ ہے اور ہر تڑپ کے اندر ایک تساہل موجود ہے یعنی خرابی ہے جس کی تڑپ میری سنت کی جانب ہوگی۔ وہ ہدایت پائے گا اور جو دوسری جانب راغب ہو گا وہ برباد ہو جائے گا میں اپنی امت پر تین سے خطرہ محسوس کرتا ہوں۔

1۔ عالم کی لغزش۔

2۔ ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے۔

3۔ ظالم حکمران۔

یہ احادیث ترمذی نے روایت کی ہے کہ متعدد مقامات پر اس کو حسن کہا ہے اور بعض مقام پر اسے صحیح بھی کہا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: