حضرت ابوبکر نے آپ ﷺ سے کیا پوچھا

حضرت عباس عرض کرنے لگے یا رسول اللہ قریش کو وصیت فرما دیں تو آپ نے ارشاد فرمایا اس بارے میں میں قریش کو وصیت فرماتا ہو قریش کی پیروی کرنے والے ہیں لوگ نیکی اور برابری کی اب اہل قریش لوگوں کے واسطے بھلائی کی وصیت کریں۔

ان لوگوں کو وہاں سے تبدیل کر دیتے ہیں نعمتوں کو اور بدل دیا کرتے ہیں لوگ نیک ہوں تو ان کے سردار ان کے ساتھ بھلائی کیا کرتے ہیں اور لوگ برے ہوتے ہیں تو ان کے سردار بھی ان سے برائی کا برتاؤ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے۔( اسی طرح ہی ہم بعض ظلم کرنے والوں کو بعض ظالموں کا دوست کر دیتے ہیں اس لیے کہ جو وہ کماتے ہیں)۔

حضرت ابن مسعود راوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو ارشاد فرمایا اے ابوبکر دریافت کر لو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ وصال قریب ہے آپ نے فرمایا وفات قریب ہے اور پھل لٹ گیا انہوں نے عرض کیا یا نبی اللہ جو کچھ اللہ کے نزدیک ہے آپ کے لئے وہ مبارک ہو کاش کہ ہمیں اپنے انجام کی خبر ہوتی۔ آپ نے ارشاد فرمایا اللہ کی جانب سدرۃالمنتہیٰ کی جانب اور جنت الماوی کی طرف بہشت بریں کاس اوفی رفیق اعلی اور برکت والی عیش اور نصیبی کی جانب انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو غسل دینے کے لئے کون ہے ارشاد فرمایا میرے اہل خانہ میں سے قریب اور قریب۔

انہوں نے پوچھا آپ کو کس چیز کا کفن دیں گے ارشاد فرمایا میرے موجودہ انہی کپڑوں میں اور یمن کے بعض اور مصری سفید چادر میں کفن دیا جائے۔ انہوں نے عرض کیا جنازہ آپ کا ہم میں سے کون پڑھائے گا اس پر ہمیں رونا آگیا اور اپ بھی رونے لگے پھر ارشاد فرمایا توقف کرو اللہ معاف فرمائے تم لوگوں کو اور بہتر جزا عطا کرے اپنے نبی سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: