اللہ تعالیٰ کا ارشاد

اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔( قسم ہے زمانے کی بے شک انسان گھاٹے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور وصیت کرتے رہے حق کی اور وصیت کرتے رہے صبر کی)۔اور سب امور بحکم اللہ ہی مکمل ہوتے ہی کسی معاملہ میں تاخیر ہو تو عجلت مت کرنا کوئی جلدی کرے بھی تو اللہ اس کی وجہ سے جلدی نہیں فرماتا۔

اور جو اللہ پر غالب آنے کے لیے کوشاں ہوں وہ خود مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے اور جو کوشش کرے اللہ کو فریب دینے کی وہ خود دھوکا کھاتا ہے۔( پس کیا تم اس کے قریب ہو چکے ہو کہ اگر تم والی ہو جاؤ تو تم زمین میں فساد ڈالو اور اپنی قرابتوں کو منقطع کرنے لگو)۔اور تم لوگوں کو میں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی انہوں نے ہی ہمیں اپنے گھر میں ٹھہرایا تھا اور تم سے پیشتر ایمان لے آئے تم ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا کیا تمہارے لئے حصہ نہ رکھا تھا انہوں نے پھلوں میں کیا اپنے گھروں میں تم کو آباد نہ کیا تھا۔

کیا تم کو انہوں نے ترجیح نہ دی تھی اپنی جانوں پر بھی جبکہ وہ خود تنگی میں تھے خبردار جو دو آدمیوں پر بھی حاکم مقرر ہو جائے تو وہ ان کے لیے نیک لوگوں سے تسلیم کرے اور بروں سے در گزر کرتا رہے۔خبردار ان پر دیگر لوگوں کو ترجیح مت دینا خبردار تم لوگوں کے لیے راستے کا نشان ہوں اور تم نے مجھ ہی سے ملنا ہے اور تمہارے ساتھ وعدہ میرا حوض ہے میرا حوض کوثر اس مسافت کے برابر سے بھی بڑھ کر وسیع ہے جو یمن کے صغاء اور شام کے بصرہ کے درمیان ہے۔ اس میں کوثر کے پرنالے سے یوں پانی گرتا ہے جو دودھ سے سفید تر اور مکھن سے بڑھ کر نرم اور شہد سے شیریں تر ہے۔ اس میں سے جس نے نوش کر لیا کبھی آئندہ پیاسا نہ ہوگا ۔

اس کی کنکر مانند مو تیوں کے ہیں اور زمین اس کی مشک کی ہے حشر کے میدان میں اس سے جو محروم ہو گیا وہ تمام خیر سے ہی محروم رہ گیا خبردار کل کو میرے پاس آنے کی خواہش رکھتا ہوں وہ ناجائز باتوں سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں پر کنٹرول رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: