ہمارے پیارے نبیﷺ کو ا پنی امت کی فکر

بوقت وصال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میرے بعد میری امت کے واسطے کون ہے تو اللہ نے جبریل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ میرے حبیب کو اچھی خبر دے دو کہ ان کی امت میں میں ان سے مواخذہ نہ کروں گا اور یہ بھی خوشخبری دے دو گے دوبارہ جس وقت اٹھائیں گے تو تمام لوگوں سے پیشتر وہی زمین سے برآمد ہوں گے اور جس وقت وہ سب اکٹھے ہوں گے تو آنحضرت ہی تمام کے سردار ہوں گے اور جنت دیگر تمام امتوں کے لئے حرام رہے گی تا آنکہ آپ کی امت جنت میں نہ چلی جائے آپ نے فرمایا یہ سن کر اب میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئی ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ راوی ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انحضرت کے لئے ہم ساتھ کنوؤں میں سے سات مشکیزے پانی کے بھر کر لیں اور آپ کو غسل کرائیں اور ہم نے ایسا ہی کر دیا آپ کو افاقہ محسوس ہونے لگا پھر آپ باہر تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ نے دعا فرمائی اہل احد کے حق میں مغفرت کی پھر آپ نے صحابہ کرام کو طلب فرمایا اور انصار کے متعلق آپ نے وصیت فرمائی اور ارشاد فرمایا۔ اما بعد اے گروہ مہاجرین تم زیادہ ہوتے جاؤ گے مگر انصار اس سے زیادہ نہ ہوں گے میرے مدینہ کی جانب آنے کے وقت انصار میرے معاون رہے تم انکے نیکوں کا احترام کرنا خطاکار سے کر لینا پھر آپ نے ارشاد فرمایا ایک بندے کو اختیار دے دیا گیا دنیا اور جو کچھ اللہ کے نزدیک ہے اس کے درمیان۔ اس نے اللہ کے پاس جو ہے اسے پسند کر لیا یہ بات حضرت ابوبکر نے سنی تو رونے لگے اور وہ جان گئے اس بندے سے مراد آپ خود ہی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر وقار کے ساتھ رہو پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں جانے کے تمام راستوں اور دروازوں کو بند کر سوائے ابو بکر کے دروازے کے کیوں کہ میں ایسا کوئی آدمی نہیں سمجھتا جو دوستی میں میرے نزدیک ابوبکر سے زیادہ بہتر ہو۔

جناب عائشہ صدیقہ نے فرمایا ہے کہ میرے ہی گھر میں میری ہی باری کے دن اور میری گود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصال پذیر ہوئے اور بوقت موت اللہ تعالی نے میرا اور آنجناب کا لعاب دہن بھی اکٹھا کر دیا وہ یوں کہ میرے بھائی عبدالرحمن آگئے وہ ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے تھے۔ آپ نے اس کی طرف دیکھا میں نے جان لیا گیا آپ مسواک پسند کرتے ہیں میں نے عرض کیا کیا میں آپ کے واسطے لے لو آپ نے سر سے اشارہ کرکے فرمایا ہاں میں نے آپ کے دہن مبارک میں یہ مسواک دے دیں جو آپ کو سخت لگی۔ تو میں نے اس کو نرم کر دیا۔ آنحضرت کے سامنے ہی ایک برتن پانی والا موجود تھا آپ اس نے اپنا ہاتھ ڈالتے تھے اور فرماتے تھے لا الہ الا اللہ البتہ موت کی سکرات ہوتی ہے۔ پھر اپنے ہاتھ کو آپ سیدھا کر کے فرماتے تھے الرفیق الاعلی الرفیق الاعلی یعنی اللہ سے ملاقات ہی چاہیے میں نے عرض کیا واللہ پھر تو آپ ہمارا انتخاب کرنے والے نہیں ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: