اہمیت محبت کی ہے

.محبت کی جانے والی شے” یا “شخص”کی نہیں۔ بس اندر یہ الاؤ جلتا رہنا چاہیے کچھ حاصل ہونا نہ ہونا معمولی بات ہے۔۔۔ ہاں درست ہے کہ لاحاصلی آپ کو اندر سے توڑ کے رکھ دیتی ہے، آپ کو جڑوں تک ہلا دیتی ہے لیکن یہی تو محبت کی صحیح ضرب ہے جو آپ کی “میں” پر لگتی ہے اور اسے پھاڑ کے رکھ دیتی ہے ۔

اس “میں” میں شگاف بن جاتے ہیں اس کی گھمبیرتا اور سختی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ان شگافوں میں روشنی اور نور کے داخل ہونے کی جگہ بن جاتی ہے۔ لیکن اندر کے توڑ پھوڑ کا یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کمزور طبیعت والے لوگ جو اس عمل سے گزرنے کی اذیت برداشت نہیں کر سکتے وہ اپنی انا کے گرد مضبوط دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں اور خود کو اپنی میں کے اندر قید کرکے سخت اور چڑ چڑے بن جاتے ہیں۔

جبکہ بعض لوگ اس آگ سے گزر کر موم بن جاتے ہیں۔ ان کی محبت کا رخ پھر کسی ایک سمت میں نہیں ہوتا، وہ کسی مخصوص شخص یا شے سے محبت نہیں کرتے وہ بلکہ وہ خود محبت بن جاتے ہیں۔ وہ جہاں کہیں جس کسی کے ساتھ ہو اس سے محبت کرتے ہیں۔بلکہ کرنے کا لفظ بھی زائد ہے وہ بذات خود محبت ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: