سائیکل سے تین سبق حاصل کریں

مجھے سائیکل تین وجوہات پر بہت پسند ہے. پہلی وجہ بتاوں تو اس نے مجھے ابتدائی شعور کے تین سبق دئے تھے. مجھے بچپن میں بھی سائیکل پسند تھی. میں کسی سے سائیکل مانگتا تو وہ پوچھتا تمہیں چلانا آتی ہے.؟ میں کہتا نہیں آتی. اس جواب پر مجھے وہ اپنی سائیکل نہیں دیتا. تب مجھے سمجھ آئی اپنا شوق پورا کرنے کیلئے یا تو خود کی چیز ہو ورنہ دوسرے کی تسلی کیلئے کوئی سرٹیفکیٹ ہو.

ابو جی کی منت سماجت کر کے آخر سائیکل خرید ہی لی. وہ زندگی کا ایک یادگار دن تھا. میرے دوستو نے پیچھے سائیکل کیریئر پکڑا اور میں سائیکل پر بیٹھ گیا. اب میں سائیکل چلا رہا تھا وہ کیریئر پکڑ کر دوڑ رہے تھے. ابو جی سے لے کر ان دوستو نے سمجھایا زندگی میں یہ کچھ رشتے ہی ہوتے ہیں جو آپ کو سٹیرنگ وہیل پر بٹھاتے ہیں. یہ بے لوث رشتے بڑے قیمتی ہوتے ہیں.

کیریئر پکڑے دوستو کو میں بار بار کہتا کیریئر نہ چھوڑنا وہ مجھے کہتے آگے دیکھ ہم نے پکڑا ہوا ہے. تمہیں گرنے نہیں دیں گے. میری مکمل توجہ کنٹرول پر ہوگئی. پیڈل کا ردھم بنا رفتار کچھ تیز ہوئی. ڈگمگاتی سائیکل اب سیدھی چل رہی تھی. میں نے فخر سے پیچھے آواز لگائی اور تیز دھکا نہ دو. دوسری بار آواز دی تو کافی پیچھے سے آواز آئی ہم چھوڑ چکے ہیں. میں کچھ گھبرایا سائیکل کچھ ڈگمگا سی گئی. لیکن گرنے کے خوف نے توازن حاصل کر ہی لیا.مجھے تیسرا سبق ملا. سفر اپنے اعتماد کا ہی ہوتا ہے. کوئی ہر وقت آپکا کیریئر پکڑ کر آپ کے ساتھ دوڑ نہیں سکتا.۔۔۔بھول نا جانا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: