کیا ایک سانس میں کئی آیات پڑھی جاسکتی ہیں -ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: کسی تقریب میں یا بالخصوص کہیں بھی اسٹیج پر قاری حضرات قرآنِ مجید کی جب تلاوت کرتے ہیں تو بعض اوقات رُموزِ اوقاف ، مثلاً: لا، یا م یا ط کا خیال نہیں کرتے اور جوشِ قرأت میں بآوازِ بلند پورے زور سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ گذشتہ دنوں ایک تقریب میں ایک قاری صاحب نے سورۃ الضحیٰ کی تلاوت کی ۔ شروع میں پہلی آیت پر وقفہ کیا ۔ پھر اکٹھی پہلی دو آیات پڑھ کر سانس لیا ۔ پھر اکٹھی پہلی تین آیات پر رُک کر سانس لیا ، حتیٰ کہ آخری بار گیارہ آیات یعنی پوری سورت تلاوت کرکے سانس لیا ۔ لطف یہ کہ سامعین کا تحسین و آفرین ’سبحان اللہ‘ وغیرہ کا سلسلہ بھی بلندتر ہوتا چلا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا طرزِ تلاوت واقعی قابلِ تحسین ہے؟ کیا حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یا آپؐ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں اس طرح کی تلاوت کی مثالیں ملتی ہیں؟ ہمیں تو پڑھایا گیا تھا کہ آیات کو الگ الگ کرکے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنی چاہیے ۔ براہِ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمادیں ۔

جواب:قرآن مجید کی تلاوت کا مقصود اس میں غور و فکر ، تدبّر و تفکّر اور عبرت پذیری ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے ۔ جلدی جلدی پڑھنے سے یہ مقصود حاصل نہیں ہوسکتا ۔ جو شخص قرآن کو بغیر سمجھے بوجھے پڑھ رہا ہو اسے بھی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے ، اس لیے کہ یہ تلاوتِ قرآن کے آداب میں سے ہے ۔سورۂ مزّمّل بعثتِ نبویؐ کے بعد ابتدائی زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے جہاں یہ فرمایا ہے کہ رات کا بیش تر حصہ ، یا نصف ، یا اس سے کچھ کم بیدار رہ کر نماز پڑھا کرو ، وہیں اس کا یہ بھی ارشاد ہے:وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا(المزّمّل :4)” اور قرآن کوخوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔”

’ترتیل ‘ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کی جائے کہ اس کا ایک ایک حرف ، ایک ایک لفظ اور ایک ایک آیت الگ الگ ہو ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:’’یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو ، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو ، تاکہ ذہن پوری طرح کلامِ الٰہی کے مفہوم و مدّعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو ۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہو ۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے تو دل جذباتِ تشکّر سے لب ریز ہوجائے ۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو ۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے ، یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے؟ غرض یہ قراءت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں ، بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ (تفسیر سورۂ مزّمّل ، حاشیہ 4 ، تفہیم القرآن ، ج6)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہدایتِ ربّانی پر پوری طرح عمل کرکے دکھایا ۔ چنانچہ متعدد صحابہؓ و صحابیاتؓ نے بیان کیا ہے کہ آپؐ کس طرح تلاوتِقرآن کیا کرتے تھے ؟اُم المومنین حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں:اِنَّ قِرَاءَ ۃَ النَّبِيِّ .قِرَاءَ ۃً بَطِیْئَۃً (احمد:26742)” نبی صلی اللہ علیہ وسلم سست رفتاری سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے ۔”دوسری روایت میں ہے:اِنَّ النَّبِيَّ کَانَ یُقَطِّعُ قِرَاءَتَہٗ( ترمذی:۲۹۲۳) ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت میں الفاظ الگ الگ ہوتے تھے ۔” بعض دیگر روایتوں میں ہے کہ انھوں نے مثال دے کر آپؐ کا طریقۂ تلاوت سمجھایا ۔ انھوں نے فرمایا:کَانَ رَسُوْلُ اللّہِ یُقَطِّعُ قِرَاءَ تَہٗ ، یَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ ، ثُمَّ یَقِفُ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ ، ثُمَّ یَقِفُ، وَ کَانَ یَقرَؤھَا مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ (ابو داؤد:4003 ، ترمذی : 2927)” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے تھے ۔ مثلاً اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پڑھ کر رک جاتے ، پھر الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھہرتے ، اس کے بعد رُک کر مٰلک یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے _”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انس بن مالک ؓ سے سوال کیا گیا کہ آپؐ کیسے قرآن کی تلاوت کرتے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا:کَان یمدُّ مدّاً (بخاری: 5045
)

’’آپ ؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے _‘‘دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے مثال کے طور پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپؐ اللہ ، الرحمٰن ، الرحیم کو مَد کے ساتھ پڑھتے تھے ۔بعد میں علما نے تجوید کے قواعد و ضوابط وضع کیے اور رموزِ اوقاف متعین کیے ، چنانچہ مصاحف کی طباعت ان رموز کے ساتھ ہونے لگی ، تاکہ لوگ درست طریقے سے قرآن کی تلاوت کر سکیں ۔ تلاوتِ قرآن کے دوران میں ان قواعد کی پابندی اور رموزِ اوقاف کی رعایتضروری ہے ۔ مشہور ماہر قراءت امام ابن الجزری (م833ھ) کا شعر ہے:وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ حَتْمٌ لَازِمٌ مَن لَّمْ یُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آثِمٌ(قواعدِ تجویدکی رعایت کرتے ہوئے قرآن کی تلاوت کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ جو شخص قواعدِ تجوید کے ساتھ نہ پڑھے وہ گناہ گار ہے _)

رہا یہ سوال کہ جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے آدابِ تلاوت کی رعایت نہ کرے اور ایک سانس میں کئی آیتیں یا پوری چھوٹی سورت پڑھ لے ، اس کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں علما نے کہا ہے کہ اگر حروف کے مخارج درست ہوں اور معنٰی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے ، البتہ افضل کے خلافہے ۔ بعض علما اسے مکروہ قرار دیتے ہیں ۔ دار العلوم دیوبند کے دار الافتاء سے یہ سوال کیا گیا :’’ قرآن مجید پڑھتے ہوئے بہت ساری جگہوں پر وقف اور وقفِ لازم ہوتا ہے ۔ وقف کرتے وقت اگر ہم آخری حرف کو سکون دیں ، لیکن نئی سانس نہ لیں اور قرآن پڑھنا جاری رکھیں تو کیا یہ جائز ہے ؟ اگر جائز نہیں ہے تو کیا حرام ، مکروہ تحریمی یا مکروہ تنزیہی ہے؟‘‘ تو اس کا یہ جواب دیا گیا:’’ سکون دے کر سانس کا انقطاع نہ کرنا اور آگے پڑھنا درست نہیں ، اصولا ً غلط ہے ، جس کا حاصل کراہت ہے ۔

اسی طرح وقفِ لازم پر وقف نہ کرنا اچھا نہیں ۔ اس کا حاصل مکروہ ہے۔‘‘ (جواب نمبر19784)،فتویٰ نمبر (ھ) :316=294-1431/ 3)قرآن مجید کی تلاوت اس کے تمام آداب اور قواعدِ تجوید کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنی چاہیے کہ یہی حکمِ الٰہی ہے اور اسوۂ رسولؐ بھی ۔[ شائع شدہ : ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور ، جون 2021 ]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: