گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پرکیا معمولات تھے؟حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: *آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کپڑے خود سی لیتے تھے، جوتے خود گانٹھ لیتے تھے، اور جو کام لوگ اپنے گھروں میں انجام دیتے ہیں، سب کام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کر لیتے تھے۔(مسند احمد)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر کے اندر تنہائی میں کیا معلوم تھا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ نرم دل اور سخی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی (گھر میں) عام مردوں کی طرح ایک مرد تھے مگر بہت خوش مزاج اور ہنس مکھ تھے۔(مسند اسحاق بن راھویه)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاف اور درگزر فرمانے کا جمال۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک یہودی عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بکری کا زہریلا گوشت لے آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کچھ گوشت تناول فرمالیا۔ جب زہر کا اثر ظاہر ہوا تو اس یہودیہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس سے اس کی اس حرکت کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سے یہ کام نہیں ہونے دیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کرنے سے منع فرما دیا (راوی کہتے ہیں) اس زہر کا اثر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر محسوس ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی دن اس سے متاثر رہے، حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور کہنے لگےایک یہودی نے آپ پر جادو کر کے گرہیں لگا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ وہ گئے (رسی) نکال کر لے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرہ کھولتے تو تکلیف میں کمی محسوس کرتے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوان اونٹنی سے بھی زیادہ چاق وچوبند تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ذکر یہودی سے نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی غصے کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر دیکھے گئے۔(مسند ابنِ ابی شیبه)

(مستفاد از طیبُ العنبر فی جمال النبی الانور ﷺ مفتی عبدالرحمن الکوثر دامت برکاتھم)

*ابھی اللہ کے حضور سچی توبہ کرنے کے بعد گُناہوں سے اجتناب کرنے کا عزم کریں اور اپنے پیارے نبی ﷺ پر خوب کثرت سے درود شریف پڑھ کر بطور ثواب یہ پوسٹ آگے شئیر کریں*۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: