حضرت لوط علیہ السلام اور قوم لوط کے بارےمیں

آپ کا نام و نسب یہ ہے، “لوط بن ہاران بن آزر”آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ قرآن میں آپکا ذکر سترہ (17) مرتبہ آیا ہے۔ آپ اپنے چچا ابراہیم علیہ السلام کے حکم سے “سدوم” جا کر آباد ہوگئے تھے۔ اس شہر کی متعدد بستیاں تھیں جو کہ شام اور حجاز کے درمیان تھیں۔ انہیں “م٘وتفکات” کہتے ہیں۔

ان بستیوں کےلوگ انتہائی بدکردار تھے۔ راہ چلتے لوگوں کو لوٹتے، اور ہر گناہ کا کام کھلے عام کرتے۔انہوں نے ایک ایسی بدکرداری ایجاد کرلی تھی جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی تھی، یہ مرد مرد آپس میں بدفعلی کرتے۔ اللّٰہ نے ان کے گھناؤنے افعال کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔”اور (اس طرح جب ہم نے لوط علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا) اسوقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بے حیائی کے کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے سارے عالم میں ایسے بے حیائی کے کام کسی نے نہیں کیے۔” (الاعراف: 80)

اور فرمایا:”اور مسافروں کو لوٹتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے بُرے کام کرتے ہو۔”(العنکبوت: 29)یہ لوگ اپنی محفلوں میں ہر برا کام کرتے اور کسی کا لحاظ نہ کرتے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انکو اللّٰہ کا پیغام پہنچانے کی بہت کوشش کی، انکو غلط کاموں سے روکا، انکو سمجھایا لیکن یہ الٹا کہتے٬”اے لوط! سچے ہو تو ہم پہ خدا کا عذاب لے آؤ۔”(العنکبوت: 29)اور آپس میں یہ طے کیا کہ چونکہ لوط علیہ السلام پاکیزہ رہنا چاہتے ہیں تو انکو بستی سے نکال دو۔لوط علیہ السلام نے انکی سرکشی کے مقابلے میں اللّٰہ سے دعا کی:” اے اللّٰہ! مجھے شریر لوگوں کے خلاف فتح دے۔”قومِ لوط کی ہلاکت و بربادی:جب اس قوم کی سرکشی اور بے حیائی عروج پر پہنچ گئی تو اللّہ تعالیٰ نے انکو عذاب دینے کے لیے خوبصورت فرشتوں کو بھیجا تاکہ انکی برائی پر شہادت قائم ہوکر انکی ہلاکت پر مہر لگ جائے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل کو حکم دیا کہ وہ لوط علیہ السلام کی دعا پر انکی بستی جائیں لیکن پہلے ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے جائیں۔ چناچہ فرشتے انکے گھر مہمان بن کر خوبصورت نوجوان لڑکوں کے روپ میں اترے، حضرت ابراہیم علیہ السلام آپکی خاطر تواضع کے لیے ایک موٹا سا بچھڑا بھون لائے، مگر وہ فرشتے تھے اسلئے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، تو ابراہیم علیہ السلام گھبرا گئے،اور پوچھا “کہ آپ کھاتے کیوں نہیں؟ تو انہوں نے اپنی حقیقت اور آنے کی وجہ بتادی۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا٬ “بھلا تم اس بستی کو کیونکر ہلاک کر سکتے ہو، وہاں تول چار سو مومن بھی ہیں؟” فرشتے بولے، “نہیں”.
کہا “تین سو؟”

بولے، “نہیں”

“دو سو؟”

بولے، “نہیں”

“سو؟”

بولے، “نہیں”

“چالیس؟”

بولے، “نہیں”

“چودہ؟”

بولے، “نہیں”

دراصل وہ تیرہ مومن تھے۔ آپ نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کو شمار کرکے چودہ کہا تھا۔ پھر فرشتے بولے۔ ” جو لوگ وہاں رہتے ہیں، ہمیں سب معلوم ہے، ہم انکو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے انکی بیوی کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔” (العنکبوت: 32)پھر فرشتے”شہرِ سدوم” کی بستیوں میں پہنچے لوط علیہ السلام اپنی کھیتیوں میں کام کر رہے تھے، اللّٰہ نے پہلے کہہ رکھا تھا جب تک لوط علیہ السلام چار گواہیاں نہ دے دیں جب تک انکی قوم کو ہلاک نہ کریں۔ فرشتوں نے آپ سے رات رُکنے کی اجازت طلب کی، آپ پریشان تھے کیونکہ قوم کے حالات سے واقف تھے اسی لیے چاہا کہ مہمان جلد لوٹ جائیں، آپ نہیں پہنچانے تھے کہ یہ فرشتے ہیں۔ آپ نے کہا، “اللّٰہ کی قسم، رُوئے زمین پر اس بستی والوں سے بڑھ کر بدکردار اور خبیث کوئی نہیں۔” یہاں تک کہ چار دفعہ یہ بات دہرائی۔

آپ کی بیوی نے جا کر قوم کو مہمانوں کے متعلق بتادیا، وہ آپ کے گھر پر ٹوٹ پڑے کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالےکردو۔ آپ نے کہا: “میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو اور اللّہ سے ڈرو”، اور انہیں شرم دلائی. مگر وہ نہ مانے اور بضد رہے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم سے اپنا پر پھیلایا اور وہ سب اندھے ہوگئے۔پھر فرشتوں نے بتایا ہمیں اللّٰہ نے بھیجا ہے اور آپ اپنے ساتھ ایمان والوں کو لے کر رات میں نکل جائیں صبح ان پر عذاب آنے والا ہے، اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھئے گا۔
غرض جب لوط علیہ السلام وہاں سے نکل گئے تو جبرائیل علیہ السلام نے اس بستی کو زمین کی آخری تہہ سے اٹھایا اور آسمان تک بلند کردیا اور پھر آسمان سے نیچے پٹخ دیا، اس کے بعد آسمان سے ہر ایک کے نام کا پتھر برستا اور اس شخص کو ہلاک کر دیتا۔ اس سب کے دوران جب لوط علیہ السلام کی بیوی نے دھماکے کی آواز سنی تو پیچھے پلٹ کر دیکھا اور بولی، “ہائے میری قوم!” یہ کہتے ہی ایک پتھر اسکو لگا اور وہ ہلاک ہوگئی۔ اس قوم کا عبرتناک انجام سورۂ ھود کی آیات (77-83) میں مرکوز ہے۔

حضرت لوط علیہ السلام کی وفات:آپکی وفات اسّی سال کی عمر میں ہوئی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ہوئی۔آپ کی قبر مبارک الخلیل کی ایک بستی “بریکوت” میں ہے۔امام مقاتل نے ذکر ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام سدوم میں بیس سال سے زیادہ رہے۔قصّہ لوط علیہ السلام سے سیکھنے کی باتیں:1. بے حیائی سے بچنا:اس قوم کی بے حیائی نے انکو کس عبرت ناک انجام کو پہنچایا، آج ہمارے معاشرے میں بے حیائی کس قدر عام ہوچکی ہے۔ ہمیں اللّٰہ کے عذاب سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس کی بتائی ہوئی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے

2.دوسری برائ جو قوم ِلوط میں تھی آج ہمارے یہاں اس قدر پھیل چکی ہے، یعنی لوٹ مار، آج ہم باہر کیا اپنے گھروں تک میں غیر محفوظ ہیں۔3. سرکشی سے بچنا:یہ ہر برائی کی جڑ ہے، اگر ہم اپنے گناہوں اور غلطیوں کو تسلیم کرلیں اور سرکشی کے بجاۓ توبہ کریں تو ہم اللّٰہ کے غضب سے بچ سکتے ہیں، نہ کہ پچھلی قوموں کی طرح انبیاء کرام کی تعلیمات کو جھٹلا کر اپنے گناہوں پر ڈٹے رہ کر۔
(یہاں حضرت لوط علیہ السلام کا قصہ اختتام پذیر ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: