کیا آپ اپنے والدین کا حصہ نکالتے ہیں

آپ میں سے جن کے والدین وفات پا چکے ہیں کیا وہ ابھی بھی اپنے والدین کے لیے آمدن میں سے کچھ حصہ نکالتے ہیں؟!ایک دن میں اپنے دوست کیساتھ بیٹھا تھا میں نے نوٹ کیا وہ اپنی ماہانہ انكم کی تقسیم يوں کررہا تھا

یوٹیلیٹی 25000

کرایہ 50000

دوائیاں 2000

والدہ 3000

والد 3000

میں جانتا تھا کہ اس کے والدین حیات نہیں ہیں، میں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ ابھی بھی ان کے لیے حصہ نکالتے ہیں جبکہ وہ حیات نہیں؟!اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: جی ہاں میرے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ میرے دل سے بھی جا چکے ہیں۔ وہ میرے بہت قریب ہیں۔ وہ ہمیشہ میرے دل میں رہتے ہیں۔ ان کو اب میری ضرورت ہے، انہیں اب میری دعاؤں اور صدقات کی ضرورت ہے اس لیے میں باقاعدگی کیساتھ والدین کی ذات کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔

کیا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟یاد رکھیں! والدین کا حق اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوجاتا۔یاد کریں آپ نے اپنے والدین کے لیے آخری مرتبہ کب صدقہ خیرات کیا؟ اور آج سے عزم کرلیں آپ وقتا فوقتا باقاعدگی کیساتھ والدین کے لیے صدقه جاريه کے طور یہ عمل کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: