خاتون احد ا عمارہ کی شان

نیا سلسلہ تذکرہ صحابیات : ام عمارہ کا اصل نام ” نسیبہ” کعب کی صاحبزادی انصار میں سے تھی بیت عقبہ میں حاضر اور شہید ہوئی حضرت میں اپنے شوہر زید بن عاصم کے ہمراہ شریک نہیں پھر بیعت رضوان میں شامل ہوئیں پھر زندگی نامہ میں حاضر ہوئی اور دست بدست جنگ کی اس لڑائی میں ایک ہاتھ ضائع ہوگیا اور تلواروں کے بارہ زخم لگے .

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالواسطہ قرابت داری کی بدولت اس خاندان کو مدینہ کا موثر ترین خاندان سمجھا جاتا ہے ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبا سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوا جو بنو نجار کے رہی تھی حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ اس عظیم خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ان سے تعلق رکھنا ہی جائے خود یہ بہت بڑا شرف ہے لیکن سچ پوچھئے تو حضرت ام عمارہ کا حقیقی سرمایہ افتخار کچھ اور تھا وہ دین کی خاطر ہروقت سر بکف رہنے کا جذبہ اور ہادی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ کا محبت اور عقیدت جس نے ان کو اپنی جان مال اور اولاد پر خرچ کرنے سے بے نیاز کر دیااسی عقیدت اور اخلاص نے ان کو اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ ان پر فخر کیا کرتے تھے حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا کا پہلا نکاح زید بن عاصم سے ہوا جو ان کے چچا زاد بھائی تھے زید سے ان کی دو اولادیں ہوئیں عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حبیب رضی اللہ تعالی ان دونوں بھائیوں نے شرف صحابیت حاصل کیا اور تاریخ میں بڑی شہرت پائی ۔ زید کی وفات کے بعد حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ عربہؓ بن عمرو کے نکاح میں آئیں ۔

ان سے کہ دو بچے تمیم اور خولہ پیدا ہوئے ام عمارہ کا شمار انصار کے سابقین اولین ہوتا ہے وہ اس زمانے میں اپنے سارے خاندان سمیت مشرف بہ اسلام ہوئیں جب بیعت عقبہ اولی کے بعد بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے کی تبلیغ کے نتیجے میں قبول اسلام کے بعد انہیں 75 نفوس قدسیہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا جنہوں نے بعیت عقبہ کبیرہ میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کی ام عمارہ جنگ احد میں شریک ہوئی اورایسی شجاعت اور جانبازی کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ میں خاتون احد کے لقب سے مشہور ہوئے طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق ان کے شوہروں اور دونوں بڑے فرزند اللہ اور حبیب رضی اللہ تعالی عنہ بھی غزوہ احد میں انکے ساتھ شریک تھے جب مجاہدین انتشار کا شکار ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنتی کے چند روز باقی رہ گئے ام عمارہ نے یہ کیفیت دیکھی تو مشکیزہ پھینک کر تلوار اور ڈھال سنبھالی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ کر کفار کے سامنے سینہ سپر ہوگئیں ،کفار بار بار پلٹ کر حضور کی طرف بڑھتے ام عمارہ دوسرے ثابت قدم مجاہدین کے ساتھ مل کر انکو روکتیں اتنے میں اک مشرک نے ان کے سر پر پہنچ کر اپنی تلوار کا وار کیا۔

ام عمارہ نے اسے اپنی ڈھال پر روکا اور پھر اس کے گھوڑے کے پاؤں پر ایسا بھرپور وار کیا کہ گھوڑا اور سوار دونوں ہی زمین پر آرہے ان کے فرزند عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس مشرک کو جہنم واصل کر دیا عین اس وقت ایک دوسرا مشرک تیزی سے ادھر آیا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بایاں بازو زخمی کرتا ہوا نکل گیا حضرت ام عمارہ نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ کا زخم باندھا اور فرمایا بیٹھ جاؤ اور جب تک دم میں دم ہے لڑو اسی اثناؑ میں جس نے عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو زخمی کیا تھا پلٹ کر پھر حملہ آور ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام عمارہ سے فرمایا سنبھلنا یہ وہی بدبخت ہے جس نے عبداللہ کو زخمی کیا حضرت ام عمارہ جوش نے غضب میں تلوار کا ایسا کاری وار کیا کہ وہ دو ٹکڑے ہو کر نیچے گر پڑا تھا ابن قمیئہ ملعون نے جب حضور رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے آگے بڑھ کر اپنے بدن پر روکا۔ چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیا پھر خود بڑھ کر ابن قمیئہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے بچ گیا۔ حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیا اور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا۔

میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اُٹھو، کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہادمیں مشغول ہو جاؤ۔ اتفاق سے وہی کافر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ!رضی اﷲ تعالیٰ عنہا دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ منظر دیکھ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِ عمارہ!رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خدا کی راہ میں جہاد کیا، حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم دعا فرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔ اس وقت آپ نے ان کے لئے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لئے اس طرح دعا فرمائی کہاَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُمْ رُفَقَائِيْ فِي الْجَنَّةِ یااﷲ! عزوجل ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔ حضرت بی بی اُم عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: