الله تعالیٰ ناراض ہوئے اور مسجد کو جلا دینے کا حکم دیا

”مسجد ضرار“ عامر راہب کے مشورے پر منافقین نے ایک مکان بنوایا تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ قیصر روم مسلمانوں ر چڑھائی کرکے مسلمانوں کو مدینہ سے نکال دے اور میری سیادت پھر قائم ہوجائے، قیصر روم کی اجتماعی مدد کے لیے انھوں نے یہ مکان بنوایا تھا اور ظاہر یہ کیا تھا کہ ہم مسجد بنا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو شبہ نہ ہو جب کہ پس پردہ ان کے تین مقاصد تھے (۱) مسلمانوں کو نقصان پہنچانا (۲) مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنا کہ مسلمانوں کی جماعت کے دو ٹکڑے ہوجائیں ایک ٹکڑا اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کا الگ ہوجائے اور یہ قدیم مسجد قبا کے نمازی گھٹ جائیں (۳) یہاں اللہ اور رسول کے دشمنوں کو پناہ ملے اور وہ یہاں مسلمانوں کے خلاف سازش کیا کریں۔

منافقین نے مسجد تعمیر کرنے کے بعد مسلمانوں کو فریب دینے اور دھوکے میں رکھنے کے لیے یہ ارادہ کیا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نماز اس جگہ پڑھوادیں تاکہ سب مسلمان مطمئن ہوجائیں کہ یہ بھی ایک مسجد ہے ان کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہٴ تبوک کی تیاری میں مشغول تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وعدہ کرلیا کہ اس وقت تو ہمیں سفر در پیش ہے واپسی کے بعد ہم اس میں نماز پڑھ لیں گے؛ لیکن غزوہٴ تبوک سے واپسی کے وقت جب کہ آپ مدینہ طیبہ کے قریب ایک مقام پر فروکش ہوئے تو آیات نازل ہوئیں جن میں ان منافقین کی سازش کھول دی گئی تھی، آیات کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب جن میں عامر بن سکن وحشی وغیرہ شریک تھے، ان کو حکم دیا کہ ابھی جاکر اس مسجد کو ڈھادو اور اس میں آگ لگادو یہ سب حضرات اسی وقت گئے اور حکم کی تعمیل کرکے اس کی عمارت کو ڈھاکر زمین پر برابر کردی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: