آپ ﷺ کا سینہ کیسے چاک ہوا ؟

جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے: اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،،

۔ پھر جب آپ ﷺ دو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لے کر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتا تھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکے تھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں ، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ; ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچے کو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں ، میں ڈرتی ہوں ، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔ جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔ جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔ وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا; ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتے ہیں ، شام کے بعد گھر آتے ہیں : یہ جان کر آپ نے فرمایا:

“تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں “اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے: “امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمد ﷺ ختم ہو جائیں گے۔”یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -“حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، ہم نے آپ سے پوچھا: “کیا ہوا تھا؟” آپ نے بتایا: “میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:” کیا یہ وہی ہیں ؟” دوسرے نے جواب دیا: “ہاں یہ وہی ہیں -” پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے –

آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -” اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے – حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا: “حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو -” میں نے کہا، ٹھیک ہے، پھر ہم آپ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے – جب میں مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچی تو آپ اچانک غائب ہوگئے – میں حواس باختہ ہوگئی۔
بحوالہ!!!!¡
آپ شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی مدارج النبوہ، قاضی عیاض مالکی کی شرح شفا علی حقوق مصطفی اور شیخ الحدیث مولانا عبد المصطفیٰ اعظمی کی سیرت النبی ﷺ اور دیگر کتب احادیث و سیرت امہات کتب سے حوالہ جات اخز کر سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: