” ایک شخص کو جِنّ نے مدینہ منوّرہ کی راہ دِکھلائی اور اِسلام لانے کا کہا،ایک ایمان افروز واقعہ ”

حضرت سعید بِن جبیر رضی اللّٰه عنہُ فرماتے ہیں کہ بنوتمیم کے ایک شخص نے اپنے اِسلام لانے کا واقعہ یوں بیان کِیا،اس نے کہا کہ مجھے ایک رات ریت کے ٹیلے کے پاس گُزرتے ہوئے نیند نے آ لیا۔لہٰذا سونے کی غرض سے میں اپنی سواری سے اُتر آیا،سواری کو باندھ کر سونے لگا تو میں نے سونے سے پہلے بُلند آواز سے کہا:” میں اس وادی کے عظیم جِنّ کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ ”

پِھر میں سو گیا مگر ایک ڈراؤنے خواب نے مجھے جگا دیا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں نیزہ ہے جسے وہ میری اُونٹنی کے حلق میں اُتارنا چاہتا ہے۔ میں خوف زدہ ہو کر اُٹھا اِدھر اُدھر دائیں بائیں دیکھا مگر مجھے کوئی چیز نظر نہ آئی میں اسے ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر دوبارہ سو گیا۔ مجھے خواب میں دوبارہ وہی منظر نظر آیا تو میں پِھر دوبارہ خوف زدہ ہو کر بیدار ہو گیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ میری اُونٹنی پر لرزہ طاری ہے مگر مجھ پر نیند پر غلبہ تھا۔لہٰذا میں اس بات کی پرواہ کیے بغیر پِھر سو گیا۔تیسری دفعہ خواب میں مجھے وہی ہیبت ناک منظر نظر آیا جس نے میری نیند کو عَنقا ( یعنی غائب ) کر دیا اور میں مکمل طور پر بیدار ہو گیا۔اب مجھ پر نیند کا کوئی اثر نہ تھا۔میں نے دیکھا کہ میری اُونٹنی کانپ رہی ہے۔جب میں نے غور سے دیکھا تو مجھے اسی طرح ایک جوان نظر آیا جس طرح کا میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اس نوجوان کے ہاتھ میں واقعی نیزہ تھا مگر ایک بوڑھے شخص نے اسے روک رکھا تھا۔ وہ نوجوان میری اُونٹنی پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ معمر شخص اس کے ہاتھوں کو روکے ہوئے تھا اور اسے میری اُونٹنی سے دُور ہٹا رہا تھا۔ اسی اثناء میں وہاں تین جنگلی بیل آ گئے،

اس معمر شخص نے اس نوجوان سے کہا: ” ان تین بیلوں میں سے ایک بیل اس اُونٹنی کے عِوض لے جا اور یہاں سے چلا جا۔ ” وہ جوان ان بیلوں میں سے ایک بیل لے کر وہاں سے چلا گیا۔ پِھر وہ بُزُرگ شخص میری طرف متوجہ ہُوا اور مجھے کہا: ” آئندہ جس وادی میں بھی تمہارا قیام ہو اور تمہیں اس وادی میں کوئی خطرہ محسوس ہو تو یہ کہا کر اَعُوذَ بِااللّٰه رَبِّ مُحَمَّدِِ مِن ھَولِ ھٰذَا الوَادِئ یعنی میں اس وادی کے خطرات سے ربِّ محمد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ کسی بھی جِنّ سے پناہ حاصل نہ کِیا کرو اب جِنّات کے معاملات باطِل ہو چُکے ہیں۔ ” میں نے اس بُزُرگ سے پوچھا: ” محمد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟ ” اس نے بتایا کہ: ” وہ اللّٰه تبارک و تعالٰی کے پیارے پیغمبر ہیں وہ نہ شرقی ہیں نہ وہ غربی ہیں۔ ” میں نے اس سے پوچھا: ” ان کا مسکن کہاں ہے؟ ” اس نے کہا: ” وہ کھجوروں والی سرزمین یثرب ( یعنی مدینہ ) میں تشریف فرما ہیں۔ ” چُنانچہ میں اپنی اُونٹنی پر سوار ہو کر عازمِ مدینہ منوّرہ ہُوا اور مدینہ پہنچ گیا۔میں نے آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی،آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مجھے خود ہی سُنا دیا، پِھر مجھے دعوتِ اِسلام دی جو میں نے قبول کر لیا اور میں مسلمان ہو گیا۔ ( حجتہ اللّٰه علی العالمین،صفحہ ۱۸٤ )
( سِیرتِ حلبیہ،جِلد ۱،صفحہ ۲۹٥ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: