اگرآپ محبت کرتےتو دوسرا نہیں کرتا تو کیا کریں

تھوڑی عقل عشق کی منکر ہوتی ہے ۔ جو بے وفا ہے وہ خالص زہر ہے ۔ ہررونے کے بعد بالاآخری ہنسی ہے۔ مبارک انسان ہے وہ انجام پرنظر رکھے۔ عاشق جب اللہ کی جانب سے شراب کی غذا پالیتا ہے ، تو عقل اس جگہ بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔ آنکھ تو وہ ہے جوجائے پناہ کو دیکھ لے۔

دل تجھےاہل دل کے کوچہ کی طرف کھینچتا ہے اور جسم تجھے پانی ، متی کے قیدخانہ کی طرف کھینچتا ہے۔کامل انسان اگر خاک لےلے سونا ہوجائے ، ناقص اگر سونا لے لے تو خاک ہوجائے۔اگر سو خوبیوں کے ساتھ ایک عیب ہوتو وہ مصری میں لکڑی کی طرح ہوگا۔ کسی دوست والے کا دامن تھا لو تاکہ اس کیبزرگی سے توبلندی پالے۔ نیک کی صحبت تجھے بنائے گی۔ بدبخت کی صحبت تجھے بد بخت بنا دے گی ۔ اگر تم چاہتے ہو کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ بھی تم سے محبت کرے تو تم صرف محبت کا مطالبہ مت کرو بلکہ خود بھی اس سے پیار کرو۔

جب اللہ کسی کی رسوائی چاہتا ہے تو اسے پاک لوگوں پر ۔ اللہ پاک جب کسی شخص کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے تو اسے معیوب لوگوں کے عیبوں پر بھی بات نہ کرنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔ عقل کی خواہش پرفضیلت حاصل ہے ۔ کیونکہ عقل زمانے کو تمہارے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔ جبکہ خواہش تمہیں زمانے کا غلام بنادیتی ہے۔ درویش کی مثال ایسی ہے کہ ایک خالی جھگڑا ہےجس کا منہ بند ہے دریا میں کیسا ہی طوفان برپاہو وہ اس میں ڈوب نہیں سکتا۔ اللہ والوں کی باتیں سکون قلب عطا کرتی ہیں۔ اور اہل ظاہر کی باتیں دل میں انتشار اور بے اطمینانی پیدا کرتی ہیں۔ مولانا رومی سے کسی نے پوچھا: زہر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہے زہر ہے جیسے اقتدار ،دولت، بھوک ، لالچ، محبت اور نفرت۔ایسے دکھو جیسے تم ہو یا پھر ویسے بن جاؤ جیسے تم دکھنا چاہتے ہو۔

اللہ تعالیٰ ظاہر کے بجائےباطن کو اور کل کے بجائے حال کو دیکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی کی رسوائی چاہتا ہے تو اسے پاک لوگوں پر لعن طعن کرنے کی طرف مائل کردیتا ہے۔ خوشی خالص او رشفاف پانی کی مانند ہے جہاں جہاں یہ بہتا ہے حیرت انگیز طور پر شاندار شگوفے کھلتے ہیں۔احمق انسان کی دوستی اور اس کی محبت سے دین اوردنیادونوں ہی کا خون ہوتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: