خواجہ حسن بصریؒ کا روحانی مقام

حضرت خواجہ سن بصریؒ کے زمانے میں امام ابو عمرؒ قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے پاس کوئی شخص قرآن مجید پڑھنے آیا۔ آپ نے اس کو پڑھانے میں کوتاہی کی۔ اس جرم میں اللہ نے انہیں سارا قرآن مجید بھلادیا۔ وہ روتے ہوئے خواجہ حسن بصریؒ کے پاس گئے اور سارا معاملہ بیان کیا۔ خواجہ حسنؒ نے فرمایا اے شخص! تو حج کو روانہ ہو جا کیونکہ آج کل حج کے ایام ہیں اور جب تو حج سے فارغ ہو جائے تو مسجد خیف میں ایک بزرگ محراب میں بیٹھے ہوئے ملیں گے وہ درود وظائف میں مشغول ہوںگے، وہ جب تک اپنے معمولات سے فارغ نہ ہو جائیں تو ان سے بات نہ کرنا۔

جب وہ فارغ ہو جائیں تو تم اپنی حاجت بیان کرنا۔ ان کی دعا سے تمہیں پھرسے سارا قرآن حکیم ازبر ہو جائے گا۔ ابوعمر نے خواجہ حسنؒ کے حکم کی تعمیل کی۔حج ادا کیا پھر مسجد خیف پہنچے اور مسجد کے محراب میں ایک بارعب بزرگ کو دیکھا۔ بہت سارے لوگ اس کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد سفید پاکیزہ لباس والا ایک شخص وہاں آیا۔سب لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے۔کچھ دیر باتیں ہوئیں،اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا۔سفید لباس والاشخص وہاں سے چلا گیا۔ دوسرے لوگ بھی چلے گئے جب وہ بزرگ تنہا رہ گیا تو ابو عمرؒ ان کے پاس پہنچےاور بعداز سلام ان کو اپنا سارا مسئلہ بیان کیا۔ پھر دعا کی درخواست کی۔ ان بزرگ نے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا فرمائی۔ ابھی انہوں نے دعا ختم بھی نہ کی تھی کہ ابو عمرؒ کو دوبارہ سارا قرآن مجید زبانی یاد ہوگیا۔ ابوعمرؒ اتنے خوش ہوئے کہ بزرگ کے قدموں میں گر گئے۔ انہوں نے ابوعمرؒ کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور پوچھا تمہیں میرے پاس کس نے بھیجا ہے؟

جواب دیا خواجہ حسن بصریؒ نے۔ بزرگ بولے، خواجہ حسن بصریؒ نے ہمارا پردہ فاش کیا ہے۔ ہم ان کا راز فشا کرتے ہیں یہ کہہ کر انہوں نے ابوعمرؒ سے کہا ابھی تم نے سفید پوشاک والے شخص کو دیکھاتھا۔ فرمایا وہ خواجہ حسن بصریؒ تھے جو روزانہ بصرے سے ظہر کی نماز پڑھ کر مکہ پہنچتے ہیں یہاں ہم لوگوں کو وعظ و نصیحت اور درس دیتے ہیں اور جب عصر کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو واپس بصرے چلے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ حضرت خواجہ حسن بصریؒ جن لوگوں کے امام ہوں ان کو ہم سے دعا کروانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ جن سے ہم خود سیکھتے ہیں وہ جن کے پاس ہوں ان کا ٹھکانہ ہی بہت بلند اور اعلیٰ و ارفع ہوتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: