حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بڑھی عورت کا واقعہ

ایک رات امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے خادم کے ساتھ گشت کے لیے نکلے وہ مدینے کی گلیوں میں لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے گھومتے پھرتے رہے چلتے چلتے انہیں تھکاوٹ محسوس ہوئی وہ ایک گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر آرام کی غرض سے کھڑے ہوگئے اتنے میں صبح بھی روشن ہو گئی۔

اس گھر کے اندر سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آ رہی تھی وہ اپنی بیٹی کو دودھ میں پانی ملانے کا حکم دے رہی تھی لیکن لڑکی ماں کے اس حکم کی تعمیل سے انکار کر رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ امیر المومنین نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہوا ہے اور بذریعہ منادی اس کا اعلان بھی کرا دیا ہے۔ماں نے بیٹی سے کہا کہ اس وقت عمر تمہیں دیکھ رہا ہے جو تم اس سے ڈر رہی ہو؟لڑکی نے جواب دیا:” اگر عمرہمیں نہیں دیکھ رہا تو کیا ہوا عمر کا رب تو یقینا ہمیں دیکھ رہا ہے”۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس نوجوان لڑکی کی دینداری و امانت داری سے بہت مسرور اور متاثر ہوئے غلام سے فرمایا کہ اس گھر کو نظر میں رکھو دن چڑھے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام عمارہ ہے جب یہ معلوم ہوا کہ وہ ابھی کنواری ہے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام بیٹوں کو بلوایا اور پوچھا کہ تم میں سے کون اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے؟ان کے بیٹے عاصم کہنے لگے کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔

چنانچہ ان کے لئے امیر المومنین نے اس لڑکی کا رشتہ مانگ لیا اور عاصم کی شادی اس نیک بخت لڑکی سے ہوگئی عاصم کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی اس کا نام ام عاصم رکھا گیا، یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں، جب سن بلوغت کو پہنچی تو ان کی شادی مروان بن حکم کے بیٹے عبدالعزیز سے ہوئی اب امعاصم کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا اس کا نام انہوں نے اپنے دادا کے نام پر عمر رکھا۔ یہ وہی عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو خلیفہ المسلمین بنے جنہیں پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے دور میں اسلام کا شباب لوٹ آیا تھا یہ ثمرہ تھا ایک نیک اور متقی لڑکی کی خدا خوفی کا۔عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ کے عہد میں بنو امیہ نے اپنی ناجائز جائیدادیں ضبط ہونے سے بچانے کے لیے ان کی پھوپھی فاطمہ بنت مردان کو سفارشی بنا کر ان کے پاس بھیجا انہوں نے پھوپھی کو سمجھا بجھا کر واپس کر دیا فاطمہ نے واپس آکر بنو امیہ سے کہا:” تم نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی پوتی سے رشتہ کیا تھا لہذا وہی فاروقی رنگ ان کی اولاد میں بھی موجود ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: