حقیقی طالب علم فقیر كےبھیس میں – پروفیسر حافظ ابوبكر صدیق

اكثر دینی مدارس میں تعلیمی سال كا آغاز ہوچكا ہے اور كرونا كیسز میں كمی كے بعد سے سكول، كالج اور یونیورسٹیوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو چكی ہیں۔ ایسے حالات میں تاریخ ِ اسلام كا ایك سنہرا ترین واقعہ طلبہ وطالبات كی راہنمائی اور دلچسپی كے لئے پیش خدمت ہے ۔ یہ واقعہ ایک ایسے حقیقی طالب علم كا ہے جس نے اندلس كے شہر قرطبہ سے بغداد تک کئی ہزار میل کا پیدل سفر كیاتاكہ اپنے وقت كے سب سے بڑے امام سے علم حاصل كرسكے۔ اسے یہ سفر طے كرنے كے لئے تقریباً دو سال كا عرصہ لگا۔ جب وہ ہزاروں میل كا سفر طے كر كے بغداد شہر پہنچا تو اسے خبر ملی كہ حكومتِ وقت نے اس كے محبوب امام پر پابندی لگا دی ہے ۔

اب یہ داستان اس طالب علم كی اپنی زبانی سنیں۔جب میں بغداد کے قریب پہنچا تو مجھے معلوم ہوا كہ امام صاحب سے ملنے اور حدیث سننے پر حكومت كی جانب سے پابندی ہے۔یہ سننا تھا کہ غموں كے پہاڑ میرے اوپر ٹوٹ پڑے، میں وہیں رک گیا، اور سامان ایک سرائے کے کمرے میں رکھ کر بغداد کی جامع مسجد پہنچا۔ میں چاہتا تھا کہ لوگوں کے پاس جاکر دیکھوں کہ وہ امام صاحب کے بارے میں کیا تبصرے کررہے ہیں؟اور کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں؟۔ جب میں وہاں پہنچا اور ایك حلقہ میں دیكھا كہ ایک شخص راویان حدیث کے حالات بیان کررہا ہے۔ وہ بعض کو ضعیف اوربعض کو قوی قرار دے رہا تھا۔میں نے پاس والے آدمی سے ان صاحب كے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا كہ یہ بھی اپنے وقت كے بڑے عالم ہیں۔ میں ان كے قریب ہوا كئی دیگر راویانِ حدیث كے بارے میں پوچھتے پوچھتے جب میں نے ان سے اپنے محبوب امام كے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی حیرت سے مجھے دیکھا اورکہا: كیا اب ہم جیسے لوگ ان پر تنقید کریں گے؟ وہ تو مسلمانوں کے امام، ان کے مسلمہ عالم اور صاحب فضل وکمال، بلكہ وہ سب سے بہترین انسان ہیں۔اس کے بعد میں و ہاں سے چلا آیا۔ ڈھونڈتےڈھونڈتے امام صاحب کے مکان تك پہنچ گیا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ تشریف لا ئے اور دروازہ کھولا۔آپ نے مجھ پر نظر ڈالی ،ظاہر ہے میں ان کیلئے اجنبی تھا، اس لئے میں نے کہا:حضرت والا! میں ایک پردیسی آدمی ہوں، اس شہر میں پہلی بار آنا ہوا ہے طالب علم ہوں،اور یہ سفر آپ سے علم حاصل كرنے كی غرض سے كیا۔ آپ نے فرمایا: اندر آجاوٴ، کہیں تمہیں کوئی دیکھ نہ لے۔

جب میں اندر آیا تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں کے رہنے والے ہوں؟ میں نے کہا مغرب بعید! انہوں نے کہا: افریقہ؟ میں نے کہا: اس سے بھی دور ، ہمیں اپنے ملک سے افریقہ تک جانے کے لیے سمندر پار کرنا پڑتاہے․ میں اندلس کا رہنے والا ہوں! آپ نے کہا: واقعی تمہاراوطن بہت دور ہے، تمہارے جیسے شخص کے مقصد كو پورا كرنے كے لئے مجھے تعاون كركے بہت اچھا لگے گا۔لیکن کیا کروں اس وقت آزمائش میں گرفتار ہوں!شاید تمہیں اس کے بارے میں معلوم ہوگیا ہو۔میں نے کہا جی ہاں! مجھے اس واقعہ کی اطلاع شہر کے قریب پہنچنے پر ہوگئی تھی۔میں نے عرض کیا: میں پہلی بار اس شہر میں آیا ہوں، مجھے یہاں کو ئی نہیں جانتا۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں روزانہ آپ کے پاس فقیر کے بھیس میں آجایا کروں گا، اور دروازے پر و یسی ہی صدا لگا یا کروں گا جیسی وہ لگاتے ہیں۔اگر آپ نے روزانہ ایک حدیث بھی سنادی تو وہ میرے لیے کافی ہوگی۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم لوگوں کے پاس آمد ورفت نہیں رکھو گے۔میں نے کہا: شرط منظور ہے۔الغرض میں روزانہ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیتا ، سر پر بھیکاریوں کا سا کپڑا باندھتا، اور کاغذ دوات آستین کے اندر رکھ کر آپ کے دروازے پر جاکر صدا دیتا : اللہ بہت دے بابا! وہاں مانگنے کے یہی دستور تھا․آپ تشریف لاتے اور دو، تین یا اس سے زیادہ حدیثیں بیان فرماتے۔

یہ تھے طالب علم تھے بقی بن مخلد جو امام احمد بن حنبل کے گھر پر حاضری دیتےان سےاحادیث کا سبق لیتےاور انہیں لکھنے کے بعد سرائے واپس چلے جاتے۔ اس طرح کرتے کرتے انہوں نے بہت ساری احادیث لکھ لیں۔حاكم وقت (واثق باللہ)نے امام احمد بن حنبل پر پابندی لگا ركھی تھی اس دور بہت جلد ختم ہو گیااور اسے بعد آنے والے حكمران (متوکل علی اللہ) کا دورِ حکومت شروع ہوگیا۔اس نے حکومت سنبھالتےہی امام صاحب پر عائد ہر قسم کی پابندیاں ہٹا دیں اور انہیں درس و تدریس کی اجازت دے دی۔

اب جب امام احمد بن حنبل كی علمی مجلس كی رونقیں دوبالا ہوئیں اور بقی بن مخلد ان كی مجلس میں اتشریف لآئے تو امام صاحب انہیں اپنے قریب بٹھایا اور شاگردوں سے كہا كہ حقیقی طالب علم کا لقب اس نواجوان پر صادق آتا ہے۔امام صاحب اپنے اس شاگرد کیلئے خاص اہتمام کرتے اور اس سے بہت زیادہ محبت کرتے۔ ایک مرتبہ وہ شدید بیمار ہو گئےسرائے کے مالک کو اُن کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ یہ شخص کون ہے؟ اس نے تو خداترسی کر کے انہیں سرائے میں مفت جگہ دی ہوئی تھی۔ اب اسے یہ خوف لاحق ہوا کہ اگر یہ سرائے میں وفات پا جاگیا تو لوگ سرائے کو منحوس سمجھنے لگ جائیں گے۔ لیكن جب اسے اپنے ایك دوست كے ذریعے معلوم ہواكہ یہ تو امام احمد بن حنبل كا شاگرد ہے تو اس كی خوشی كی انتہاء نہ رہی۔ اور ادھر امام صاحب کو کسی نے بتا دیا كہ آپ كا شاگر بقی بن مخلد بیمار ہے تو وہ ان كی تیمارداری كے لئے سرائےچلے آئے اور ان كےساتھ لوگوں كا ایك ہجوم تھا۔ اب اس كے بعد اس سرائے كی اہمیت دوبالا ہوگئی كہ یہاں امام احمد بن حنبل تشریف لائے تھے۔ اور ادھر اس شاگرد كا بھی بول بالا ہوا كہ اس كی تیمارداری كے لئے وقت كا امام اپنی تمام تر مصروفیات كو ترك كركے پہنچا تھا۔

اس حقیقی طالب (بقی بن مخلد )كی لگن كو اللہ تعالی نے یوں قبول فرمایا كہ وہ مشرق سے مغربِ بعید تك علم قرآن وسنت لے كر پہنچا اور تفسیر اور حدیث كے علوم كو اندلس كی سرزمین میں پہنچانے بہت بڑا سہرا انہی كے سر پر سجا۔ 201ھ/817ء میں پیدا ہونے والا یہ عظیم انسان بہت بڑا علمی سرمایہ رہتی دنیا تك كے لئے چھوڑ كر 276ھ/ 889ء كو اس دارِ فانی سے كوچ كر گیا۔ان كی زندگی كا یہ سنہرا واقعہ ہر طالب علم كے لئے مشعل راہ ہے كہ اگر وہ حقیقی طالب علم بن جائے تو حالات كی نزاكتیں، ماحول كی سختیاں، وقت كا جبر، وسائل كی كمی اور عدم دستیابی اس كے راستے میں حائل نہیں ہوسكتی۔ ایسے ہی طالب علم كے بارے ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے كہ اللہ كے فرشتے ان كے لئے پروں كو بچھا دیتے ہیں اور كائنات كی تمام تر مخلوقات بشمول سمندر كی گہرائیوں اور آسمانوں كی بلندیوں پر بسنے والی مخلوقات اس طالب علم كے لئے دعائیں كرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: