نمرود کا خواب

نمرود کا نسب نامہ یوں تھا نمرود بن کنعان بن سام بن نوح علیہ السلام-موجودہ تورات میں حضرت نوح کے بعد اسی شہر بابل کا تذکرہ ہےعاد و ثمود کا تذکرہ نہیں ملتا-دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مومن اور دو کافر، حضرت سلیمان بن داؤد اور حضرت ذوالقرنین،اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر-اوربابل کے سب لوگ بت پرست تھے-

اور ان کے علاوہ باقی کچھ علاقوں میں سورج کی پوجا کی جاتی کہیں بڑے سات ستارے معبود تھے اور کہیں چاند اور کسی جگہ آتش پرستی کی جاتی تھی- الغرض ہر طرف کفر و شرک کی ہوائیں عام تھیں- تبھی شیطان نے نمرود کے دماغ میں ایک خلل پیدا کر دیا- کہ وہ دعوائی خدائی کا کرے کہ اسے زمین کی خدائی بخشی گئی ہے اور تمام لوگ اسے سجدہ کریں اور جو سجدہ نہ کرے اسے قتل کر دیا جائے- اور خوراک کا سارا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اعلان کر دیا کہ اب خوراک بس انہیں ملے گی جو نمرود کو معبود اعلی اور بڑا خدا مانیں گے- چونکہ نمرود ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے بادشاہ چلا آتا تھا اس لئے دماغ میں رعونت اور انانیت آ گئی تھی، سرکشی اور تکبر، نخوت اور غرور طبیعت میں سما گیا تھا، بعض لوگ کہتے ہیں چار سو سال تک حکومت کرتا رہا تھا-

مفسرین کا بیان ہے کہ ”نمرود بن کنعان ”بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلے اسی نے تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ اس سے پہلے کسی بادشاہ نے تاج نہیں پہنا تھا یہ لوگوں سے زبردستی اپنی پرستش کراتا تھا کاہن اور نجومی اس کے دربار میں بکثرت اس کے مقرب تھے۔نمرود نے ایک رات یہ خواب دیکھا کہ ایک ستارہ نکلا اور اس کی روشنی میں چاند، سورج وغیرہ سارے ستارے بے نور ہو کر رہ گئے۔وہ بڑا پریشان ہوا اور اپنے کاہنوں اور نجومیوں سے اس خواب کا ذکر کیا اور تعبیر پوچھی-کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ ایک فرزند ایسا ہو گا جو تیری بادشاہی کے زوال کا باعث ہو گا۔ اور وہ تیری خدائی سے انکار کرے گا- یہ سن کر نمرود بے حد پریشان ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ وہ بچہ کب پیدا ہو گا-تب انہوں نے کہا کہ وہ آج سے تین راتوں میں باپ کے شکم سے ماں کے پیٹ میں داخل ہو گا-تب ملعون نے یہ حکم دے دیا کہ میرے شہر میں کوئی آدمی آج سے تین راتوں تک عورت کے پاس نہ جائے گا-جب تیسری رات ہوئی تو نمرود کے مصاحب خاص تارخ کی بیوی کو بحکم ربی شہوت نے گھیرا تب آزر خود نمرود کی خواب گاہ میں تھا- کہ وہ نمرود کے سرہانے کھڑا رہتا اور پہریداری کرتا اور علاوہ اس کے پہریدار دروازے پر ہوتے-

جب آزر کی بیوی سے نہ رہا گیا تو وہ اٹھی اور گھر سے نکل نمرود کے محل کی طرف چلی اور دو فرشتے اس کے پہریدار ہوئے-جب وہ نمرود کے محل میں پنہچی تو سارے پہریداروں پر اللہ نے نیند طاری کر دی- اور عورت جب نمرود کی خواب گاہ میں پنہچی تو اللہ تعالی نے آزر کے دل میں بھی آگ بھڑکائی- تبھی انہوں نے وہیں خلوت کی اور وعدہ پورا ہوا- بعد اس کے آزر ڈرا کہ نمرود کو پتا چلا تو مجھے نہ چھوڑے گا- اور اس بات کو کسی سے زکر نہ کیا-
چوتھے دن کی صبح نمرود نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں کو پوچھا تو انہوں نے خساب لگانے کے بعد کہا کہ وہ بچہ آج کی رات میں ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی شروعات کر چکا ہے- تب اس ملعون نے حکم جاری کر دیا کہ میرے ملک میں جو بچہ پیدا ہو وہ قتل کردیا جائے۔ اور مرد عورتوں سے جدا رہیں۔ چنانچہ ہزاروں بچے قتل کردیئے گئے۔ مگر تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے ؟

جب آزر کی بیوی کے ہاں بچے کی ولادت کا وقت قریب آیا تو آزر نے کہا کہ یہ بچہ ہمیں نمرود کے حوالے کرنا ہو گا تاکہ وہ اسے قتل کر سکے- لیکن ماں ڈری اور وہاں سے نکل گئی اور شہر سے دور دو پہاڑوں میں بچے کو جنم دیا اور وہیںان پہاڑوں میں چھپا دیا اور اس ڈر سے شہر نہ لائی کہ کہیں نمرود کے حواری اسے قتل نہ کر دیں اور انہیں پہاڑوں میں ایک چھوٹے سے غار میں چھپا کر آگے پتھر کر دئیے کہ نظر نہ آئے اور نشانی رکھ دی ۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: