حضور انور ﷺ کو زہر دینے کی ناپاک سازش

جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فاتحانہ شان کے ساتھ قلعہ قموص میں داخل ہوئے تو مرحب کی بہن نے بکری کا بھنا ہوا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا اس نے لوگوں سے پوچھا حضور ﷺ کو بکری کے کس حصے کا گوشت پسند ہے اسے بتایا گیا کہ حضور ﷺ کو بکری کے بازو کا گوشت بہت پسند ہے اس نے بکری کے سارے گوشت میں زہر ملا دیا ۔

خصوصی بکری کے بازو میں زیادہ مقدار میں زہر کی ملاوٹ کر دی جب اس نے بکری کا بنا ہوا زہر آلود گوشت دسترخوان پر رکھا تو حضور ﷺ نے بازو اٹھا لیا ایک ٹکڑا تناول فرمایا لیکن چبانے کے فورا بعد اسے تھوک دیا ور فرمایا اس بازو نے مجھے خبر دی ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے….. اس دسترخوان پر حضور ﷺ کے علاوہ چند دیگر صحابہ بشمول حضرت بشر بن براءؓ بھی شامل تھے حضرت بشؓر نے بھی گوشت کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈالا تھا اور اسے چبانے کے بعد نگل لیا تھا زہر اس قدر سخت اور شدید تھا کہ گوشت کا ٹکڑا نگلتے ہی ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا تھا اور پل بھر میں ان کی شہادت واقع ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ اس واقعے کے کچھ عرصہ کے بعد ان کی شہادت ہوئی حضرت بشؓر نے عرض کی یارسول اللّه ﷺ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو معزز اور محترم بنا کر مبعوث فرمایا جب میں نے لقمہ منہ میں ڈالا تھا تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ یہ زہر آلود ہے لیکن میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ حضور کی موجودگی میں لقمہ تھوک دوں مبادا حضور ﷺ کی طبیعت اور مزاج نازک پر میری یہ حرکت گراں نہ گزرے اس لئے میں نے لقمہ نگل لیا۔
بحوالہ تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 52 ضیاء النبی جلد 4 صفحہ 247

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: