زبان کی حفاظت عافیت کی ضمانت

ایک صاحب علم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کاغذ پر لکھ کر دیوار سے لٹکا دیا کہ چالیس دن تک زبان کے استعمال میں خوب احتیاط کرنی ہے کیونکہ زبان ایک اژدہا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے وغیرہ۔

ہم چند ساتھی مل کر چالیس روزہ یہ کورس کر رہے ہیں ۔ ان چالیس دنوں میں غیبت ، جھوٹ ، بحث بازی ایسے الفاظ جن سے اپنی بڑائی کا شبہ ہو ۔ ایسا لہجہ جس میں مخاطب کو تکلیف ہو ۔ ایسی باتیں جن سے کسی کو ایذا پہنچے ایسی گفتگو جس سے کسی کے معاملات میں بے جا مداخلت ہوتی ہو۔ طعنہ زنی ، چغلی اور فضو ل گپ بازی سے بچنے کی ان شاء اللہ کوشش کریں گے ۔
رات کو محاسبہ کریں گے کہ ہم اس کوشش میں کامیا ب ہوئے یا نہیں ؟ اگر کوئی غلطی ہو گی تو خود کو سزا دیں گے ۔ چالیس دن کا یہ مجاہد ہ زندگی بھر کیلئے مفید ہو سکتا ہے ۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ قبر سامنے ہے۔ موت منہ پھاڑے قریب سے قریب تر آرہی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کتنے ہی لوگ اپنی زبان کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے اور اللہ تعالیٰ معاف کرے آج تو زبان ہمارے ایمان واعمال کو قینچی کی طرح کاٹ رہی ہے چاٹ رہی ہے ۔ دانستہ جھوٹی باتیں روح کو گندا کررہی ہیں ۔
برتنوں ، جوتوں اور جھاڑو پر بڑے بڑے اچھے اچھے مسلمان گھنٹوں لڑتے ہیں اور شیطان خوشی سے بغلیں بجاتا ہے۔ طعنہ زنی اور غیبت جیسی برائیوں نے گھروں کو جہنم بنادیا ہے ۔

اسی لیے ہم چند ساتھیوں نے زبان بندی کا فیصلہ کیا ہے اور ہمارے سامنے حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔”من صمت نجا” جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ۔ زبان ٹھیک جہاں ٹھیک اور زبان درست ہونے کافائد ہ دل کو بھی ملتا ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان ان باتوں کا مذاکرہ ضروری ہےبلکہ گھروں میں تو “آداب زندگی ” نامی کتاب کی باقاعدہ تعلیم ہونی چاہیے جوحضرت اقدس حکیم الامت مولانا اشر ف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ۔ اگر اس پر عمل ہو تو انسان واقعی انسانی اخلاق اپنانے والا بن سکتا ہے ۔ ماخوذ از:” آج کا سبق “صفحہ51 مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: