ایسے حجاب شریعت میں بالکل جائز نہیں

اس سے بہتر تھا بغیر حجاب کے گھوم لیتی، حجاب وہ ہونا چاہیے جس میں عورت بالکل خوبصورت نہ لگے تاکہ کوئی آنکھ اسے تارے نہ، یہ نہیں کہ حجاب میں پہلے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگے اور ہر کوئی اسے دیکھے، وہ بھی عورت تھی، اور بس زمین پر چلی ہی تو تھی، ۔

وہ آئی تھی موسی علیہ السلام کو بلانے کہ آپ کو میرے بابا بلا رہے ہیں ، ایک باحیاء پاکباز عورت، زمین پر اس ڈھنگ سے چل رہی تھی کہ عرش بریں پر پروردگار عالم کو اس کی حیاء والی چال اتنی پسند آئی قرآن بنا کر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب اطہر پر اتار دیا :ﺠَﺂﺀَﺗۡﮧُ ﺍِﺣۡﺪٰﻯﮩُﻤَﺎ ﺗَﻤۡﺸِﯽۡ ﻋَﻠَﯽ ﺍﺳۡﺘِﺤۡﯿَﺂﺀٍ ۫ ﻗَﺎﻟَﺖۡ ﺍِﻥَّ ﺍَﺑِﯽۡ ﯾَﺪۡﻋُﻮۡﮎَ ﻟِﯿَﺠۡﺰِﯾَﮏَ ﺍَﺟۡﺮَ ﻣَﺎ ﺳَﻘَﯿۡﺖَ ﻟَﻨَﺎ ؕ ﻓَﻠَﻤَّﺎ ﺟَﺂﺀَﮦٗ ﻭَ ﻗَﺺَّ ﻋَﻠَﯿۡﮧِ ﺍﻟۡﻘَﺼَﺺَ ۙ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﺎ ﺗَﺨَﻒۡ ۟ٝ ﻧَﺠَﻮۡﺕَ ﻣِﻦَ ﺍﻟۡﻘَﻮۡﻡِ ﺍﻟﻈّٰﻠِﻤِﯿۡﻦَ القصص، 25

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں” موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا “کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو”. موسی علیہ السلام جب اس کے پیچھے چل دیے وہ لڑکی آگے چلتی ہے اور موسی علیہ السلام پیچھے پیچھے، ہوا چلنے کی وجہ سے کبھی لڑکی کی پنڈلی سے کپڑا ہٹتا ہے، تو موسی علیہ السلام نے آواز دے کر کہا کہ تم میرے پیچھے پیچھے چلو میں آگے چلتا ہوں جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکریاں پھینک دینا،یہ ہے باحیاء عورت کی عزت، قیامت تک کے لیے اللہ پاک نے اس با حیاء عورت کی عزت کو چار چاند لگا دیئے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: