آزمائشوں کی حکمتیں

انسان کو الله کی یاد آ جاتی ہے۔ گناہوں سے توبہ تائب ہونے کا خیال آتا ہے۔ مخلوق سے امیدیں ختم ہو جاتی ہیں، اور ایک ہی در کھلا نظر آتا ہے۔ مناجات کا سلیقہ آ جاتا ہے۔ تعلق بالله کی طرف رغبت اور لوگوں سے میل جول سے اکتاہٹ ہو جاتی ہے۔ گناہ جھڑتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ انسان کمزور ہے، بے تحاشا اور بار بار گناہ کرتا ہے۔ الله تعالیٰ کی کمال حکمت و رحمت ہے کہ اسے گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔

حقیقی اور تصنع و تکلف پر مبنی تعلقات کی پہچان ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے متعلق خیالات پر نظرِ ثانی کا موقع ملتا ہے۔ اپنی کم مائیگی و اصل اوقات کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ نعمتِ عافیت کی قدر ہونے لگتی ہے۔ نعمتیں تبھی یاد آتی ہیں، جب چھین لی جاتی ہیں۔ انسان آسائش و خیر کے دنوں کے لوٹنے کو ذہن میں رکھ کر اپنے سے اور اپنے رب سے بہت سارے عہد و پیمان کرتا ہے۔آزمائشیں تربیت و تزکیے کا مثالی نظام ہے۔ انسان صبر و رضا، تحمل اور حوصلہ، ٹھہراؤ، سنجیدگی اور معاملہ فہمی سیکھتا ہے۔ دنیا کی بے ثباتی و بے اعتباری کا مشاہدہ کرتا ہے۔ تقدیر اور آخرت پر ایمان پختہ ہو جاتا ہے۔
بہت دفعہ آزمائش کسی بڑی نعمت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ہر تنگی آسانی کو، ہر کرب کشائش کو اور ہر صبر نصرتِ الہی کو ساتھ لے کر آتا ہے۔ دیر ہو جاتی ہے مگر جب حکمتیں سمجھ آنے لگتی ہیں تو آسائش کا انتظار بھی مزہ دیتا ہے۔ |[ فیضان فیصل وفقه الله ]|

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: