دین فروشی بند کرو ۔ محمد سلیم

“قس بن ساعدة” کے قلمی نام سے لکھنے والے فلسطینی کاتب/مؤلف/مصنف/صحافی “أدهم شرقاوي” کے ایک طویل مضمون (لا تأكل بدينك – دین فروش سے اپنا چولہا نہ چلا) سے کچھ اقتباس آج کیلیئے خاص طور پر آپ حضرات کیلیئے منتخب کیئے ہیں، لکھتے ہیں:

عبداللهِ بن محيريز الجمحی القرشی (تابعی) ایک دکان میں اپنے لیئے قمیض خریدنے کیلیئے داخل ہوئے۔ ابھی قمیض کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہے تھے کہ دکان میں پہلے سے موجود ایک گاہک نے دکاندار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: جانتے ہو یہ کون ہیں؟ یہ ہمارے ملک کے سب سے بڑے فقیہہ اور عابد و زاہد حضرت عبداللہ بن محیریز ہیں، انہیں خاص خیال سے سودا بیچنا۔ عبداللهِ بن محيريز نے انتہائی غصے کے ساتھ اس شخص کو دیکھا، ہاتھ میں اٹھائی ہوئی قمیض کو واپس دکاندار کی طرف اچھالتے ہوئے کہا: ہم چیز اپنے پیسوں سے خرید کرتے ہیں اپنے دین سے نہیں۔ إبراهيم بن أدهم کا گزر ایک ایسے بچے کے پاس سے ہوا جو انجیریں بیچ رہا تھا۔ آپ نے بچے سے کہا: بچے، مجھے اپنی انجیریں فروخت کرے گا ؟ یہ بچہ اپنی انجیروں کیلیئے کوئی موٹی اسامی کی تلاش میں تھا جو اس سے اچھے داموں اس کی انجیرین خریدے یا کم از کم یہ خریدار إبراهيم بن أدهم تو نہ ہو کوئی اور صاحب ثروت ہو جسے وہ یہ انجیریں بیچے۔

اچانک بازار میں سے ہی ایک شخص اس بچے کے پاس آیا اور اس سے کہا: بچے انہیں اپنی انجیریں فروخت کر دے، یہ ہمارے سارے بلاد شام کے بڑے فقیہہ إبراهيم بن أدهم ہیں۔ بچے نے انجیریں إبراهيم بن أدهم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: اے چچا، جس بھاؤ میں پسند ہوں یہ انجیریں لے جائیے۔ إبراهيم بن أدهم نے بچے سے کہا: اے بچے، ہم انجیریں اپنے دین کے بدلے نہیں خریدتے۔
امام الشافعی رحمۃ اللہ نے کیا خوبصورت بات کی ہے، فرماتے تھے: میں ناچ ناچ کر اپنا رزق کما لیا کروں یہ میرے لیئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ میں اپنا دین بیچ کر اپنی روزی روٹی کمایا کروں۔ آج کے دور میں ہمیں ایسے علماء کی چھتری کی ضرورت ہے جس کے نیچے چھپ کر ہم فتنوں کی بارش سے محفوظ ہو جائیں مگر افسوس ہے کہ علماء ہمیں برستی بارش میں بھیگتا چھوڑ کر امراء اور حکمرانوں کی چھت تلے محفوظ ہو کر بیٹھ گئے ہیں، جس طرح تاریخ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے جری موقف کو فتنہ خلق القران میں یاد رکھتی ہے ویسے ہی تاریخ ایک اور مکالمہ بھی یاد رکھتی ہے جو حسن بصری اور عمر بن ھبیرہ کے درمیان ہوا۔

عمر بن ھبیرہ نے حسن بصری سے کہا: جس طرح اللہ نے اپنی مخلوق پر امیر المومنین مقرر کیا اسی طرح امیر المومنین نے مجھے عراق پر حاکم بنا دیا ہے۔ وہ مجھے خطوط بھیجتا رہتا ہے اور وہ کچھ نافذ کرنے کیلیئے کہتا ہے جس سے عدالت مطمئن نہیں ہوتی۔ کیا فقہہ میں میرے لیئے کوئی بچاؤ کا راستہ نکلتا ہے؟ حضرت حسن بصری نے کہا: یا ابن ھبیرہ: ہر اس کام میں اللہ سے ڈریو جس میں کوئی زیادتی ہو اور ہر اس زیادتی سے نہ ڈرنا جو اللہ کیلیئے ہو۔ کیونکہ اللہ تجھے زیادتی سے منع کرتا ہے لیکن اس زیادتی سے نہیں روکتا جو اللہ نے منع نہ کی ہو،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: