میں صحابی بننا چاہتا ہوں

ٹیچر نے پہلی کلاس کے بچوں سے پوچھا : ہر بچہ یہ بتائے کہ بڑا ہو کر وہ کیا بننا چاہتا ہے ؟
کسی نے کہا پائلٹ ، کسی نے کہا ڈاکٹر اور کسی نے کہا انجینئر ۔ اُن سب کے جوابات کچھ اِسی طرح کے تھے ۔۔ اُن میں صرف ایک بچہ نے کچھ عجیب بات کہی ،

اس کی بات سن کر سب بچے ہنس پڑے ۔ کیا آپ کو معلوم ہے ، اُس نے کیا کہا ؟ اس نے کہا : “میں صحابی بننا چاہتا ہوں ۔ استاد کو طالب علم کی اس بات پر بڑا تعجب ہوا۔” استاد نے کہا : صحابی بننا کیوں چاہتے ہو ؟ طالب علم نے جواب دیا : ” أمی روزانہ سونے سے پہلے کسی نہ کسی صحابی کا قصہ ضرور سناتی ہیں ، وہ کہتی ہیں صحابی اللہ تعالی سے محبت کرتا ہے ، اِسی لئے میں اُنہی جیسا بننا چاہتا ہوں ۔” استاد خاموش ہوگیا ۔ ۔ ۔ اِس جواب پر وہ اپنے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔وہ جان گیا تھا کہ اس بچے کی تربیت کے پیچھے ایک عظیم ماں ہے، اسی وجہ سے اِس کا نشانہ اتنا بلند ہو گیا ہے ۔ ایک ڈرائینگ ٹیچر کہتی ہیں* : “ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے پرائمری گریڈ کی ایک کلاس کے بچوں سے کہا کہ وہ موسم بہار کے منظر کی ڈرائینگ بنائیں ۔ ایک چھوٹی سی بچی اپنی ڈرائینگ لے کر آئی ، اس نے قرآن مجید کا اسکیچ بنایا ہوا تھا ۔۔۔

اس کی اس ڈرائینگ پر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ میں نے کہا : موسم بہار کی ڈرائینگ بناؤ ، قرآن مجید کی نہیں ۔ سمجھیں؟ ؟! اس بچی کا معصوم سا جواب میرے منہ پر ایک طمانچہ کی طرح پڑا ۔۔۔اس نے کہا : قرآن مجید میرے دل کی ربیع (بہار) ہے میری أمی نے تو مجھے یہی بتایا تھا۔ ۔ ۔ *کیسی عمدہ تعلیم تھی وہ ؟ ! !* اللہ کی بے نیام ، ننگی تلوار “سيف الله” خالد بن الوليد جب قرآن مجید ہاتھ میں لیتے تو روتے ہوئے کہتے تھے . . .( جہاد نے ہمیں تجھ سے غافل کردیا ہے ، اے قرآن ! )کیا ہی خوب عذر تھاکیا آپ اس تحریر کو خود پڑھنا اور کسی اور کو بھیجنا چاہتے ہیں ؟( ہاں) یا ( نہیں) ؟اگر ہاں ہے تو اسے اپنے پاس محفوظ نہ رکھیں بلکہ اسے آپ کے جو عزیز اور محبوب لوگ ہیں انہیں بھیج دیں ۔ہماری زندگی کا ایک سیکنڈ ۔۔۔اور گئی ہوئی سانسیں واپس لوٹنے والی نہیں ہیں
اس لئے زندگی کی جو سانسیں بچی ہیں انہیں اللہ کی اطاعت میں گزاریں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: