دودھ کا ایک گلاس

“اس سے تو اچھا تھا میں اسی بیماری میں ہی مر ہی جاتی۔۔۔” شوہر کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کے وہ اپنے آپ کو کوسنے لگی۔۔۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے بستر مرگ پہ تھی۔۔

اسکے علاج پہ تمام جمع پونجی لگ چکی تھی۔ کسی نے اسکے شوہر کو بتایا کہ شہر میں ایک ایسا ڈاکٹر موجود ہے جو ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا ہے ۔ اس آخری امید پہ شوہر اسے شہر کے بڑے اسپتال میں لے گیا۔۔ ڈاکٹر نے مریضہ کو دیکھا ۔ پہلے پہل تو وہ بھی یہی سمجھا کہ اسے بچانا مشکل ہے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور دل سے اسکا علاج کیا ۔۔ کئی ہفتوں کے علاج کے بعد بلآخر وہ ٹھیک ہوگئی ۔۔ زندگی بچ جانے کی جو خوشی چند پل کے لیے لبوں پہ مسکان بن کے پھیلی تھی زیادہ دیر ٹک نہیں پائی ۔۔۔ نرس نے اسپتال کے اخراجات کا بل جب تھمایا تو دونوں میاں بیوی بے حد پریشان ہوگئے کیوں کہ اب وہ ایسی حالت سے دوچار تھے جہاں اتنے پیسوں کا اتنظام کرنا قطعی نا ممکن تھا ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے ۔۔ “ میں معافی چاہتی ہوں ۔۔ یہ بل آپ مجھے واپس کردیں” نرس نے واپس پلٹ کے بل آدمی کے ہاتھ سے پکڑا ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے چار ٹکڑے کرکے کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیے۔۔ ایک اور کاغذ تھما کے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔ شوہر نے کاغذ کھولا تو اس پہ لکھا تھا

“ دودھ کے ایک گلاس نے آپکے سارے قرض اتار دیے ہیں ” شوہر نے جب بیوی کو اس بارے میں بتایا تو اسکی آنکھوں میں حیران اتر آئی ۔۔ اور اسے بچپن کا وہ واقعہ یاد آیا جسے وہ مکمل طور پر بھول چکی تھی کڑی دوپہر میں دروزے پہ دستک ہوئی ۔ جب اس نے دروازہ کھول کے دیکھا تو سامنے نیم بے ہوشی کی حالت میں ایک لڑکا پڑا تھا ۔۔ وہ جلدی سے کچن میں گئی ، اسے کھلانے کے لیے کھانا موجود نہیں تھا ۔ جگ میں تھوڑا سا دودھ پڑا تھا ۔ دودھ گلاس میں ڈال کے وہ اسے پلانے کے لیے لے آئی ۔۔ دودھ پینے کے بعد لڑکے کی جان میں جان آئی۔۔ “ میرے پاس یہ کھلونے ہی اس احسان کے بدلے آپ یہ سارے کھلونے مجھ سے لے لیں ۔۔” لڑکے کا اشارہ اس ٹوکری کی طرف تھا جس میں کھلونے بھرے تھے اور وہ یہ کھلونے بیچ کر گزر بسر کررہا تھا ۔ “ نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اوردروازہ بند کرکے چلی گئی ۔۔۔ پر اسے اس بات کے بالکل احساس نہیں تھا کہ گلی میں کھلونے بیچنے والا وہ لڑکا ایک دن اتنا بڑا ڈاکٹر بن جائے گا اور اسکی جان بچائے گا ۔۔۔ بے ساختہ اسکی آنکھیں برسنے لگیں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: