حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا فکرِ آخرت

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ پر فکرِ آخرت کا بڑا غلبہ رہتا تھا ، ایک مرتبہ آپ کی ایک باندی آئی اور اس نے سلام کیا ، پھر ایک جانب کھڑے ہو کر اس نے نماز پڑھی اور بیٹھ گئی ، تو اس پر نیند کا غلبہ ہوا اور آنکھ لگ گئی اور نیند ہی میں وہ رونے لگی ۔

پھر وہ بیدار ہوئی اور عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! میں نے خواب میں ایک عجیب منظر دیکھا ہے ۔ پوچھا کہ کیا دیکھا ؟ تو کہنی لگی کہ میں نے دیکھا کہ دوزخ ہے اور وہ اہلِ دوزخ پر زور زور سے آوازیں نکال رہی ہے ۔ پھر پل صراط لایا گیا اور دوزخ پر اس کو بچھا دیا گیا ۔ حضرت امیر المؤمنین نے کہا کہ پھر کیا ہوا ؟ کہنے لگی کہ پھر امیر المومنین عبد الملک بن مروان کو لایا گیا اور پل صراط پر ڈالا گیا اور وہ کچھ ہی دور اس پر چلے تھے کہ پل صراط جھک گیا اور وہ جہنم میں گر گئے ۔

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر کیا ہوا ؟ کہنے لگی کہ پھر امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک کو لایا گیا اور پل صراط پر ڈالا گیا اور وہ بھی کچھ ہی دور اس پر چلے تھے کہ پل صراط جھکا اور وہ جہنم میں گر گئے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر کیا ہوا ؟ کہنے لگی کہ پھر امیر المؤمنین سلیمان بن عبد الملک کو لایا گیا اور پل صراط پر ڈالا گیا اور وہ بھی کچھ ہی دور اس پر چلے تھے کہ پل صراط جھکا اور وہ جہنم میں گر گئے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر کیا ہوا ؟ کہنے لگی کہ پھر اے امیر المؤمنین ! آپ کو لایا گیا ۔

اتنا سنتے ہی انھوں نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ وہ باندی ان کے کان میں کہتی جا رہی تھی کہ اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم ، میں نے دیکھا کہ آپ نجات پا گئے ، خدا کی قسم ، آپ نجات پا گئے ۔ راوی کہتے ہیں کہ باندی تو یہ کہتی جارہی تھی اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ اپنے پیروں کو زمین پر رگڑتے جا رہے تھے ۔“ ( إحیاء العلوم : ۴ ؍ ۱۸۷ ) روتے روتے دعاوں میں ضرور یاد رکھنا اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: