ہماری موت پرامن ہو سکتی ہے

ہماری موت پرامن ہو سکتی ہے ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا نماز کی کلاس میں ایک خوبصورت بیان:آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ موت کے لیے تیار ہیں کہ نہیں؟ موت انسان کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔

میں جاننا چاہتی ہوں کہ اگر مجھے ابھی اسی وقت مرنا ہو تو میری موت کیسی ہوگی؟ کیا وہ دردناک ہوگی؟ یا فرحت بخش؟ یا پھر بہت پیاری؟ اس کا جواب یہ ہے ۔۔۔ ہے ۔۔ کیوں؟ آپ کی موت ویسی ہی ہوگی جیسی آپ کے لیے آپ کی نمازکیونکہ نماز ادا کرتے ہوئے درحقیقت آپ کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ اللّه سے ملاقات اور جب آپ وفات پاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ اللّه سے ملاقات اگر آج جبکہ آپ کی روح آپ کے جسم میں ہے، آپ اللّه سے ملاقات پسند نہیں کرتے تو کل جبکہ آپ کی روح آپ کے جسم کا ساتھ چھوڑ جائے گی، تب کیوں ملنا چاہیں گے؟

اگر آج آپ کو اپنی نماز پیاری ہے تو آپ کی موت بھی اچھی ہوگی۔اگر آپ نماز کا شوق سے انتظار کرتے ہیں تو موت کے قریب بھی آپ بےچینی سے اس پنجرے کی قید سے آزاد ہو کر بلندیوں کی طرف پرواز کرنا چاہیں گے۔اگر آج نماز آپ کے لیے بوجھ ہے تو موت بھی آپ کے لیے بوجھ ہوگی۔اگر آج نماز آپ کے لیے تکلیف کا باعث ہے تو موت بھی آپ کے لیے تکلیف کا باعث ہوگی۔ اپنی نماز پر توجہ دیں، اپنی نماز کو بہتر کریں تاکہ اللّه سے آپ کا رشتہ بہتر ہو۔ کیونکہ نماز ہو یا موت، دونوں ہی درحقیقت اللّه سے ملاقات ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: