گزشتہ زمانے کے لوگ اور آج کے

” گزشتہ زمانے کے لوگ ” کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی.

وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیبتمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی

لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگےاس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ۔”کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: