حضرت یوسف علیہ السلام اور آپ کے بھائی

چنانچہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی بریت ظاہر ہوگئی تو بادشاہ مصر نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو عزت کے ساتھ لایا جائے میں شاہی خدمت ان کے سپرد کردوں گا۔ حضرت یوسف علیہ السلام جب وہاں پنہچے تو عزیز مصر نے اپنے تحت پر ان کے لئیے جگہ خالی کی اور آپ کو تمام مصر کی شاہی سونپنے کی بات کی-تب حضرت یوسف نے پوری بادشاہت سنبھالنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اگر تم قحط سالی سے بچنا چاہتے ہو تو خزانے کے کنجیاں میرے حوالے کردو، کیوں کہ میں حساب میں ماہر ہوں، چنانچہ عزیز مصر نے آپ کو شاہی خزانچی بنادیا۔

خوشحالی کے دور میں آپ نے بہت سا غلہ اور اناج جمع کرنا شروع کر دیا اور تمام غلے کو ان کے خوشوں میں ہی رہنے دیا کہ اس طرح غلہ خراب ہونے اور اسے کیڑا لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے- اسی دوران عزیز مصر کا انتقال ہوا چونکہ اس کی کوئی اولاد نہ تھی جو تحت شاہی سنبھالے تو لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف علیہ السلام کو ہی بادشاہ بنا لیا جائے کہ آپ تمام معاملات نہایت احس طریقے سے سر انجام دیتے ہیں-اور دوسرا اخلاق و کردار اور عادات و اطوار کے لحاظ سے بھی اس قابل ہیں کہ حکومت سنبھال سکیں کہ آپ جیسا نیک بزرگ کوئی نہ ہے جو تحت شاہی کے لائق ہو-خوشحالی کے بعد جب قحط کا زمانہ آیا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت میانہ روی سے جمع کیا ہوا غلہ عوام میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

نہ صرف یہ بلکہ خوشحالی کے سالوں میں آپ نے اتنی مقدار میں غلہ جمع کر لیا تھا جو کہ آپ کے ملک کی عوام کی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا-چنانچہ آپ نے نزدیک و دور کے قحط زدہ علاقوں میں اپنے ایلچی بیجھے کہ خبرکر دیں کہ مصر میں غلہ موجود ہے سو جو کوئی خریدار بننا چاہے آ کر کے خرید لے- قحط کا اثر کنعان تک بھی جا پہنچا تھا، جب حضرت یوسف کا ایلچی وہاں پنہچا تو حضر یعقوب علیہ السلام نے اہل کنعان سے مشاورت کے بعد غلے کے لیئے سب سے سرمایہ اکٹھا کیا اور چند معزز لوگوں کے ساتھ اپنے بیٹوں کو غلہ لانے کے لیے مصر بھیجا، اور ان سے کہا کہ شاہ مصر سے کہنا کہ ہمیں ہمارے سرمائے کے بدلے زیادہ غلہ عنایت کرے جب ہم پر خوشحالی آئے گی تو ہم آپ کو پورا پورا بدلہ دیں گے-

اور یوسف علیہ السلام کے بھائی بنیامین کو اپنے پاس ہی رکھا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کا قافلہ مصر میں پہنچا تو حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا مگر وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے، حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے بہانے سے ان کے خاندان اور گھر بار کے متعلق پوچھا اور آپ کا مقصد باپ اور بھائی کی خیریت دریافت کرنا تھا- تب آپ کے بھائیوں نے بتایا کہ ہم دس بھائی ہیں جو یہاں موجود ہیں اور علاوہ ان کے ہمارا ایک اور بھائی بنیامین ہے جو ہمارے بوڑھے باپ کی خدمت کے لئیے ان کے پاس رکا رہا ہے کہ وہ ضعیف اور نابینا ہیں۔

تب حضرت یوسف نےاپنے بھائیوں سے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو جو اگلی دفعہ تم اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ساتھ لے کر آو تو ہم تمہیں مزید غلہ دیں گے اور تم اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے زیادہ غلہ لے جا سکو گے تو اگلی بار اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لانا، تم کو بہت سا غلہ دیا جائے گا اور اگر تم اس کو نہ لائے تو تم کو اناج نہیں ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: