اکیسویں صدی کے غلام – زبیر منصوری

آخر لوگ فیس بک پر گردش کرتی اس تصویر کو کیوں بہت پرانی ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ؟مجھے تو یہ 2021 کا منظر نظر آتا ہےشہری اور دیہاتی وڈیرے جنرل میڈیا ہاوسز کے مالکان اعلی سرکاری افسران کو حساس تصور کی آنکھ سے پیچھے کھڑا ہوا دیکھیں ان کے سامنے بیٹھے ہوئے ان تباہ حال انسانوں کو بھی تصور کی آنکھوں سے دیکھیں آپ کو ان کے ذہنوں پر ایسی ہی زنجیریں نظر آ جائیں گی ۔

جو نظام تعلیم نے میڈیا نے اشتہاری ادارون نے ان کے کلچر نے ان کو پہنا رکھی ہین اندر سے یہ ایسے ہی ہین الجھے بالوں والے جدید دور کی دی پریشانیوں میں پھنسے لوگ غلامی سہہ سہہ کر ان کا اندر مر چکا ہے یہ خود کو فراموش کر چکے ہین جسم پر کچھ پہنے ہونے یا نہ ہونے کا فرق مٹ چکا ہے ان کے لئے جینا اور مرنا ایک ہی جیسا تو ہے! بس کولہو کے بیل ان کی نہ اپنی کوئی زندگی ہے نہ خوشی نہ غم سب کچھ دوسرون اور حالات سے مشروط۔۔!کسی بیل گھوڑے یا گدھے کی طرح ہری گھاس سایہ دار جگہ کم سے کم کام اور خواہشات نفس پوری کرنے کا موقعہ ۔۔! بس یہی تو کل ملا کر ان کی زندگی ہے نہ کوئی مقصد زندگی نہ شعور نہ تہذیب نفس
بس خود فراموشی کے عالم میں نہ نظر آنے والی زنجیروں میں جکڑے غلاظت کے کسی چھکڑے کو کھینچتے یا ابلیس کی مزدوری میں لگے یا گناہوں کے سپاہی بنے لوگ جن کا ہزاروں لاکھوں کروڑں کی تعداد میں پیدا ہونا اور مرنا بس مردم شماری کے خانے میں ایک عدد کی کمی یااضافہ سےزیادہ کچھ نہیں۔۔!
کچھ بھی تو نہیں!

پھر گورا انگریز ہی کیوں مجرم؟ان نسل در نسل جیتے اور بڑھتے کالے آقاوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نالی کے کیڑوں کی طرح جیتے خود ان “ اشرف المخلوقات” کے بارے میں کیا رائے ہے؟؟؟؟پہلے انگریزوں نے شعور حیات سے محروم رکھا اب اپنے رکھے ہوئے ہیں۔۔۔کوئی ایسا پیدا کرو جو ان پیکر ان خاک میں جاں پیدا کرےکوئی تو عقل والے مزاحمت کار پیدا کرے۔۔!کوئی تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تازہ کرے ان کی بیڑیاں کاٹے ان کے بوجھ اتارے ان بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں دینے کا راستہ بنائے۔۔۔! یا سب کے سب بس “ میں میرا مجھے” کے چکر میں لگے رہیں گے؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: