حکایت رومی : صبر

ایک کتانزع کے عالم میں تھا اور اس کا مالک پاس بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ فرط رنج سے اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی۔روتا جاتا اور کہتا جاتا کہ ”ہائے مجھ پر تو آسمان ٹوٹ پڑا،میں کیا کروں ، کدھر جائوں ، کون سا جتن کروں کہ میرے پیارے کتے کی جان بچ جائے‘‘۔غرض کہ اسی طرح سے اونچی آواز سے رو رہا تھا۔اتنے میں ایک فقیر ادھر سے گزر ا۔

کتے کے مالک کو یوں بے حال دیکھا تو پوچھ بیٹھا کہ ”بھائی خیر تو ہے، یوں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیوں رو رہا ہے؟‘‘کتے کے مالک نے جواب دیا : ” کیا کہوں، کون میری فریاد سننے والا ہے، میرا یہ کتا جس پر نزع کا وقت طاری ہے، بڑے اوصاف والا ہے۔ چراغ لے کر بھی ڈھونڈو تو ایسا کتا نہ ملے گا۔ رات کو میرے مکان کی نگہبانی کرتا ہے، کیا مجال کہ کوئی پرندہ بھی ادھر پر مارے۔کتا کیا ،اسے شیر کہو شیر،بڑی بڑی روشن آنکھوں والا ہیبت ناک ، اونچا قد، دوڑنے میں ہرن کو مات کر دے، اسے دیکھ کر چور اچکوں کی روح فنا ہو جاتی ہے۔ کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح شکار کے تعاقب میں نکلتا ہے، ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ بلا کا قانع، بے غرض اور وفادار۔ میں نے جو دے دیاوہی کھالیا‘‘۔

فقیر نے بے حد متاثر ہو کر چوچھا: ”تیرے کتے کو تکلیف کیا ہے؟ کیا کوئی مہلک زخم آ گیا ہے؟‘‘ کتے کے مالک نے جواب دیا : ”بھوک سے اس کا دم نکالا جا رہا ہے، اور کوئی بیماری نہیں۔ کئی دن ہو گئے ، اسے کچھ کھانے کو نہیں ملا‘‘۔ فقیر نے کہا : ”بھائی اب صبر کرو، اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے، خدا کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں، اللہ تعالیٰ صبر کا پھل بھی دیتا ہے‘‘۔ اتنے میں فقیر کی نظر رونے والے کی کمر پر پڑی۔ جہاں کپڑے میں کوئی چیز بندھی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ فقیر نے پوچھا ”میاں! اس کپڑے میں کیا چیز لپیٹی ہوئی ہے ؟‘‘یہ میں نے کل کے لئے کچھ روٹیاں اور کھانے کا سامان رکھا ہوا ہے‘‘۔

وہ بولا۔ فقیر حیرت زدہ رہ گیا۔ اس نے کہا :”ارے ظالم ، کتا اتنا اچھا ہے تو اسے کیوں نہیں دیتا کھانے کو‘‘!وہ شخص کہنے لگا ، ”کتے سے مجھے اس حد تک محبت نہیں ہے کہ اپنی روٹی اسے دے دوں۔ روٹیاں بغیر پیسوں کے نہیں ملتیں۔ یہ جو آنسو اس کے لئے بہا رہاہوں، یہ میرے پاس مفت ہیں، فالتو ہیں، آنسو بہانے پر کوئی خرچ نہیں آتا۔ سو میں اس پے بہا رہاہوں‘‘۔فقیر بولا: ”لعنت ہو تیری اس عقل اور محبت پر۔ تیری مثال تو اس مشک کی سی ہے جس میں ہوا بھری ہوتی ہے۔ خاک تیرے سر پر، تیرے نزدیک روٹی کا ایک ٹکڑا آنسو سے زیادہ قیمتی ہے۔ ارے نامراد، آنسو تو وہ خون ہے جسے غم اور صدمے نے پانی بنا دیا ہے‘‘۔ ”ارے ظالم! خون کی قیمت خاک کے برابر کیسے ہو سکتی ہے‘‘۔ درس حیات: اگر تم ضرورت مند کی مدد کرنے کے قابل ہو تو اس کے لئے ہمدردی کے چند الفاظ بولنا کافی نہیں ہیں ، بلکہ تم پر فرض ہے کہ اس کی مدد کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: