حج کے کسی مسئلے میں شدید اختلاف

ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبدالمالک اور اس کے بیٹے کے درمیان حج کے کسی مسئلے میں شدید اختلاف ہو گیا توخلیفہ نے کہا:مجھے عطاء بن رباح رحمتہ اللہ علیہ کا پتابتلاؤ۔

لوگ اسے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہ کی مجلس میں لے گئے اور مسجد حرام کے اندر بیٹھے تھے اور ان کے ارد گرد لوگوں کا ازدحام تھا۔ جیسے چاروں طرف سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ خلیفہ نے صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ کر مسئلہ دریافت کرنا چاہا کیونکہ وہ خلیفہ تھا اور اس کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا تھا اتنے میں عطاء بن رباح رحمۃ اللہ علیہ کی آواز میں کانوں سے ٹکرائی
اے امیرالمومنین :اپنی ہی جگہ میں رہیں ،لوگوں سے آگے نہ بڑھیں کیونکہ اس جگہ آپ سے پہلے آ چکے ہیں ۔ خلیفہ اپنی جگہ رک گیا پھر جب اس کی باری آئی تو مسئلہ دریافت کیا عطاء بن رباح رحمتہ اللہ علیہ نے اس کاجواب بتلایا ۔ خلیفہ جب واپس آیا توآپ نے لڑکوں سے کہا : اے میرے بیٹو! و تم پر ضروری ہے کہ اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرو اور دین میں تفقہ پیدا کرو۔ اللہ کی قسم ! ہم مجھے پوری زندگی میں صرف اس آزاد کردہ غلام کے علاوہ کسی کے سامنے خفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اللہ تعالی اپنی اطاعت کے ذریعے جس کو چاہتا ہے بلند کرتا ہے خواہ وہ مال و جائداد اور نسب سے محروم حبشی غلام کیوں نہ ہو اور اپنی مصیبت و نافرمانی کرنے والوں میں جس کو چاہے ذلیل و رسوا کرتا ہے اور خواہ عالی نسب اور خاندان کاکیوں نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: