معمولی عطیہ یہ میرے تیرے شایان شان نہیں

یزید بن مہلب نے بنو امیہ کے خلاف بغاوت کی اور بصرہ پر غالب آیا ۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اسے گرفتار کر کے کے قید خانے میں بند کروا دیا ۔ یزید بن مہلب راتوں رات جیل سے فرار ہو گیا ۔ اس کے ہمراہ اس کا بیٹا مخلد بھی تھا۔

یہ دونوں ایک ضعیف العمر شخص کے گھر اترے خاتون نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی اوران کی خاطر تواضع کی ۔ صبح جب یہ باپ بیٹا بڑھیا کے پاس سے روانہ ہونے لگے تو یزید نے بیٹے سے پوچھا تیرے پاس کتنا مال ہے بیٹے نے بتایا کہ دینار۔ یزید مہلب نے کہا یہ سارے دینار اس بڑھیا کے حوالے کردو ۔ تو بیٹے نے عرض کیاابا جان ابھی آپ پریشان حال ہیں روپے پیسے کی ضرورت بھی ہے، پھر یہ بڑھیا آپ کی طرف سے دیئے گئے چند سکوں پر راضی ہوجائے گی اور یہ آپ کو جانتی بھی نہیں ہے کہ آپ کون ہیں کہاں سے آرہے ہیں۔

آپ کی حیثیت کیاہے یذید نے اپنے بیٹے سے کہا : بیٹے میری طرف سے معمولی بات یہ بڑھیا کو خوش تو کر سکتی ہے مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوسکتا یہ میرے شاشان نہیں اگر کوئی یہ کہے کہ میں کون ہوں کیا میری حیثیت کیا ہے مگر میں تو اپنی حیثیت کو خوب اچھی طرح جانتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: