جب مسافر ، فسافرت میں انتقال کرتاہے

جب کسی مسافر پر نزع کا عالم طاری ہوتا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے یہ پیچارہ مسافر ہے ، اپنے اہل و عیال اور والدین وغیرہ کو چھوڑ چکا ہے ، جب یہ مرے گا تو اس پر کوئی افسوس کرنے والا نہ ہوگا ، تب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اس کے والدین ، اولاد اور خویش و اقارب کی شکل میں بھیجتا ہے۔

جب وہ انہیں اپنے قریب دیکھتاہے تو ان کو اپنے خویش و اقارب سمجھ کر حد درجہ مسرور ہوتاہے اور اسی مسرت میں اس کی روح پرواز کرجاتی ہے ، پھر وہ فرشتے پریشان حال ہو کر اس کے جنازے کے پیچھے پیچھے جلتے ہیں اور قیامت تک اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں ، فرمان الہیٰ : اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتاہے ۔ ابن عطاء رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں انسان کا صدق و کذاب ، اس کی مصیبت اور شادمانی کے وقت ظاہر ہوتا ہے ، جو شخص شادمانی وخوشحالی میں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہے مگر مصائب مین فریاد دفغاں کرتاہے وہ جھوٹاہے ۔ اگر کسی کو دوعالم کا علم عطا کردیا جائے ، پھر اس پر مصائب کی یلغار ہو اور وہ شکوہ و شکایت کرنے لگلے تو اسے اس کا یہ علم و عمل کوئی فائدہ نہیں دے ۔ (یہ علم بیکارہے )

حدیث قدسی ہے ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے جو میری قضا پر راضی نہیں میر عطا پر شکر نہیں کرتا وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: