حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا مصائب و آلام عارفین کے لیے چراغ مریدین کے لیے بیداری اور مومنین کے لیے اصلاح اور غافلین کے لیے ہلاکت ہیں صاحب ایمان مصائب پر صبر کئے بغیر ایمان کی لذت کا مزہ حاصل نہیں کر سکتا ۔

حدیث مبارکہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے جو ساری رات بیمار رہا اوراللہ تعالی کی رضا کی خاطر صبر کیا تو وہ شخص گناہوں سے پاک ہو جائے گا کہ جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی پیدا کیا ہو ۔

صبر كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: