موت کے تین قاصد

زہر الریاض میں ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا حضرت عزرائیل علیہ السلام کے مابین رشتہ اخوت قائم تھا ۔ ایک روز حضرت عزرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے پوچھا کہ ملاقات کے لئے آئے ہو یا میری روح قبض کرنے کے لئے آئے ہو۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ صرف ملاقات کےلیے حاضر ہوا ہوں ۔

آپ نے فرمایا مجھے ایک ضروری بات کہنی ہے حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا فرمائے کیا بات ہے آپ نے فرمایا جب میری موت کا وقت قریب آ جائے تو میری روح قبض کرنے سے پہلے مجھے بتا دینا حضرت عزرائیل علیہ السلام نے کہا میں اس مقصد کے لئے آپ کے پاس آنے کے قبل جو تین قاصد آپ کے پاس بھیجوں گا پھر جب حضرت یعقوب علیہ السلام کا وقت آخر آیا اور حضرت عزرائیل علیہ السلام روح قبض کرنے کےلیے آن موجود ہوئے۔ تو آپ نے فرمایا تم نے وعدہ کیا تھا کہ آپ اپنے آنے سے قبل میرے پاس قاصد روانہ کروگے ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے جواب دیا میں نے بالکل ایسے ہی کیا ۔

پہلے تو آپ کے بالوں کی سیاہی سفیدی میں تبدیل ہوئی یہ پہلا قاصد تھا ۔ پھر جسم کی پھرتی اور طاقت ختم ہو گئی یہ دوسرا قاصد تھا ۔ اس کے بعد آپ کی کمر چھک گئی ، یہ تیسرا قاصد تھا ۔ اے یعقوب علیہ السلام اسلام موت سے قبل یہ میرے تین قاصد ہر انسان کے پاس جاتے ہیں زمانہ ۔ اوردن چلے گئے اور گناہ رہ گئے موت کا پیامبرآ نپہنچا اور دل غفلت میں ہی رہا ۔ دنیا کی محنت صرف دھوکہ و فریب ہیں اور تیرا دنیا میں ہمیشہ رہنا نہ ممکن ہے اور جھوٹ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: