عقل مندوں کی باتیں

کسی دانشمند کا قول ہے دنیا تھی اور میں نہیں تھا یہ دنیا رہے گی اور میں نہیں رہوں گا میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ہو کیونکہ اس کی زندگی مختصر ہے اس کی پاکی میں بھی گدلاپن ہے، اس میں رہنے والے اس کے زائل ہونے، مصیبت کے نازل ہونے اور موت کے آنے سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں ۔

ایک اور دانشمند کا قول ہے ۔ دنیا انسان کو اس کی مرضی کے مطابق نہیں ملتی یا تو زیادہ ملتی ہے یا پھر کم حضرت سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے ۔ دنیا کی نعمتوں کو دیکھو وہ اپنی برائی کی وجہ سے ہمیشہ نالائقوں کے پاس ہی ہوتی ہے ۔

حضرت ابوسلیمان الدارانی ان کا قول ہے کسی طالب دنیا کو دنیا ملتی ہے تو وہ زیادہ کی خواہش کرتا ہے اور جب کسی طالب آخرت کو آخرت کا اجر ملتا ہے تو وہ زیادہ کی خواہش کرتا ہے نہ اس کی خواہش ختم ہوتی ہے اور نہ اس کی خواہش ختم ہوتی ہے ہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: