دنیا سے محبت رکھنے کا انجام

حضرت عمار بن سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا گزر ایک ایسی بستی سے سے ہوا۔ جس کے رہنے والے مکتلف اطراف اور راستوں پر مردہ حالت میں پڑے ہوئے تھے۔

آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا، اللہ تعالی ان پر راضی نہیں ہے ۔ ورنہ ان کو ضرور دفن کیا جاتا حواریوں نے عرض کی ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ان کے حالات کا علم ہوجائے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا مانگی اللہ تعالی نے فرمایا جب رات آجائے تو ان سے دریافت کرنا اپنی ہلاکت کی وجہ بیان کریں گے۔ جب رات ہوئی تو حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا اے بستی والو ہاں اسے بستی والوں ایک آواز آئی لبیک یا رسول اللہ آپ نے دریافت کیا تمہاری یہ حالت کیوں ہے ۔

اور عذاب کے نازل ہونے کی کیا وجہ ہے ۔ جواب ملا ہم نے عافیت کی زندگی گزاری اور دوزخ کے حقدار قرار پائے۔ صرف اس لئے کہ ہم دنیا سے محبت رکھتے تھے اور گنہگاروں کی پیروی کرتے تھے ۔ آپ نے پوچھا تمہیں دنیا سے کیسی محبت ہے جواب آیا جیسے ماں کو بچے سے محبت ہوتی ہے جب ہمارے پاس دنیا آجاتی ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں اور جب دنیا چلی جاتی ہے تو ہم وغم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا سبب ہے کہ صرف دو ہی جواب دے رہا ہے کہ تیرے باقی ساتھی چپ ہیں۔ جواب ملا طاقتورپر ہیبت فرشتوں نے ان کو آگ کی لگامیں دالی ہوئی ہین ۔ آپ نے فرمایا پھر تو کیسے جواب دے رہا ہے ۔

جواب ملا میں ان میں رہتا ضرور تھا لیکن ان جیسے برے کام نہیں کرتا تھا جب خدا کا عذاب آیا تو میں بھی اس کی لپیت میں آگیا ۔ اب میں دوزخ کے کنارے پر لٹکا ہوا ہوں ۔ کیا معلوم اس سے خلاصی باتا ہوں یا اس میں گر جاتا حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں سے فرمایا ۔ نمک سے جو کی روٹی کھانا اور پرانا کپڑا پہننا اور کوڑے کےڈیھر پر سو جانا اور آخرت کی بہتری کے لئے بہت اچھا عمل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: