حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی جان نثاری

جب غار کے نزدیک پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! رکیے میں پہلے ان کو غارکو صاف کر لوں چنانچہ اندر جا کر ہاتھوں سے ٹٹول کر اس کو صاف کرنا شروع کیا جہاں کہیں سراک دکھائی دیا وہاں کپڑا پھاڑ پھاڑ کر اس کو بند کر دیے حتیٰ کہ سارا کپڑا ختم ہوگیا ۔

اور ایک سراخ رہ گیا وہاں آپ نے اپنے پاؤں کا انگوٹھا رکھ دیا تاکہ کوئی چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم غار میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی گود میں سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس سراخ سے ایک سانپ نے ڈس لیا لیکن آپ نے پاؤں کو جنبش نہ دی اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نہ کھل جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل پیدا نہ ہو ۔

شدت تکلیف سے آپ کے آنسو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی فرمایا ابوبکرکیا بات ہے ۔ عرض کی یا رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سانپ نے ڈس لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب لگا یا تو زہر کا اثر ختم ہو گیا ۔

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا خوب کہا ہے ( اشعار)

ریشم کے کیڑوں سے ریشم حاصل کرکے ہی عمدہ قسم کا لباس تیار کیا جاتا ہے ۔ مگر مکڑی کو اس بارے میں زیادہ فخر ناز حاصل ہے کیونکہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غار ثور پر جالا بنایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: