حفظِ مکہ مکرمہ کی تکریم

مسجد حرام میں مال کا ڈھیر لگا ہوا ہے بہت سارے کپڑوں کے تھان رکھے ہوئے ہیں۔حجاج کرام کی نظریں جب استعمال کے ڈھیر اور کپڑوں کے تھانوں پر پڑتی ہیں تو ان کے ذہن و دماغ میں ایک سوال ابھرتا ہے، آخر یہ مال کس کی وجہ سے بکھرا پڑا ہے ۔

اس کا مالک کون ہے اور اس کا سبب کیا ہے ۔ یہ42 ہجری کی بات ہے اس سال کے حجاج میں ابو ربیع بھی تشریف لائے ہیں۔ وہ بھی یہ مال دیکھتے ہیں اور ارد گرد کے لوگوں سے سوال کرتے ہیں۔ یہ سب کس کا ہے؟ جواب ملتا ہے اس کا مالک ایک خرسانی ہیں اس کا نام علی رضا ہے وہ ایک نہایت مالدار اور صاحب ثروت انسان ہے ۔

فیاضی اور سخاوت اس کی سرشت میں داخل ہے گزشتہ سال اس نے ایک ثقہ آدمی کو کپڑے اور مال دے کر مکہ مکرمہ بھی بھیجا تھا اور اس کے حکم دیا تھا کہ قریشیوں میں جو بھی حافظ قرآن ہوں یہ ان پر تقسیم کر دینا چنانچہ وہ آدمی علی ذرات کا دیا ہوا مال اور کپڑے کے تھان لے کر گزشتہ سال مکہ مکرمہ آیا تھا اس نے حکم کے مطابق اعلان عام کر دیا تھا کہ قریش کے جن جن لوگوں کو قرآن پاک یاد ہے وہ تشریف لائیں اور اپنے حصے کا مال اور کپڑے لے جائیں لیکن سوا اتفاق کے قریش میں ایک آدمی بھی ایسا موجود نہیں تھا۔

جس کو پورا کلام اللہ یاد ہو ، ہاں بنو ہاشم کا صرف ایک آدمی تھا جس کو قرآن پاک کیا تھا چنانچہ اس ہاشمی کو بہت سامان اور کپڑے دے کر علی رضا آدمی مکہ مکرمہ سے چلا گیا جو مان اور کپڑے بچ گئے انھیں لے کر علی ذرات کی خدمت میں ڈال دیا اس سال بھی علی زراعت کا وہی نمائندہ بہت ساری رقم اور کپڑوں کا گٹھ لے کر حاضر ہوا ہے مگر امسال کا منظر بڑا ہی خوش کن ہے کیونکہ مکہ کے بہت سے افراد قرآن پاک حفظ کر چکے ہیں۔

اور تمام کے تمام پلیز رات کے بھیجے ہوئے مال اور کپڑوں کا کاھد یہ قبول کر چکے ہیں ۔ اس سال صورتحال یہ ہے کہ ایلجی جو مال و متاع لے کر آیا ہوا تھا قریشیوں میں تقسیم کر چکا ہے اسکا سارا مال اور سامان ختم ہو چکا ہے مگر ابھی کافی حفاظ باقی ہیں جن کو اس مال میں سے کچھ نہیں ملا اور وہ لوگ اس نمائندے سے اپنا حصہ طلب کر رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: