تاجرمسافر کا واقعہ

ایک تاجر تجارت کی غرض سے شام کے شہر حلب کی جانب روانہ ہوا راستے میں طوفان باد و باراں نے آلیا برفباری کی شدت سے سڑکیں بند ہوگئیں اس زمانے میں اس شہر میں ہوٹل وغیرہ نہیں تھے کہ مسافر وہاں کا رخ کرتے عموما واقف کاروں یا رشتہ داروں کے ہاں قیام ہوتا یا پھر کسی بھی اجنبی شخص کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا اور اس سے رات رہنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنا دروازہ کھول دیتا بلکہ کھانا بھی کھلاتا تھا یہ دستور ایک مدت تک چلتا رہا بلکہ آج بھی دیہات اور قصبوں میں یہی دستور باقی ہے اور مہمان کا حق سمجھا جاتا ہے کہ اگر وہ گاؤں میں آئے تو اس کی مہمان نوازی کی جائے۔

اس تاجر نے ایک گھر کے دروازے پر دستک دی گھر والوں نے دروازہ کھولا اس نے بتایا کہ وہ مسافر ہے رات گزارنا چاہتا ہے گھر والوں نے خوش آمدید کہا اپنے گھر کے دریچے کھول دیئے یہ چھوٹا سا گھر تھا اس میں میاں بیوی اوران کا اکلوتا نوجوان بیٹا رہتا تھا دو کمروں میں سے ایک میں ان کا بیٹا اور دوسرے میں ان کے والدین سو جاتے تھے۔ دن کے وقت یہی کمرے کھانے پینے اور بیٹھنے کے لئے استعمال ہوتے تھے گھر والوں نے مہمان کو بٹھایا کھانا پیش کیا اور پھر اس کے پاس بیٹھ کر گفتگو شروع کردی تاجر نیک دل آدمی تھا اس نے میزبانوں کو تفصیل سے اپنے حالات سے آگاہ کیااور بتایا کہ اس کے پاس ایک خطیر رقم موجود ہے جسے وہ مال تجارت خریدنے کے لئے لایا ہے رات دیر تک باتیں ہوتی رہیں یہ گفتگو میزبان کی بیوی بھی سن رہی تھی اسے پتہ چل گیا کہ ہمارے مہمان کے پاس بھاری رقم موجود ہے۔

سوتے وقت اہل خانہ نے مہمان کے لیے نئے بستر کا اہتمام کیا اس پر مہمان لیٹ گیا دوسرے کونے میں ان کا بیٹا لیٹ گیا۔ بیوی نے اچانک خاوند کے کان میں سرگوشی کی: آخر ہم کب تک فکروفاقہ کی زندگی گزارتے رہیں گے ہمارا مہمان مالدار آدمی ہے ایک بڑی رقم اس کی جیب میں موجود ہے ہمیں رقم کی شدید ضرورت ہے اگر ہم چاہیں تو رات ورات امیر بن سکتے ہیں مگر وہ کیسے خاوند نے پوچھا۔ اس وقت ایسا نادر موقع ہے جو شاید کبھی نہ آئے اس کی بیوی نے ورغلایا اور ہم اس مہمان کو قتل کر دیں جتنا مال اس کے پاس ہے قابو کرلیں اور لاش ٹھکانے لگا دیں اس طوفان بادوباراں کے موسم میں کسی کو کچھ پتہ بھی نہیں چل سکے گا کسی کو بھی معلوم نہیں کہ ہمارے گھر میں مہمان موجود ہے رات اندھیری اور سرد ہے لاش کو ٹھکانے لگانا کوئی مشکل نہیں ہم راتوں رات بہت مالدار بن جائیں گے۔

اس کا خاوند پہلے تو انکار کرتا رہا کہ مہمان کے ساتھ ایسا ظلم کرنا بڑی وحشیانہ حرکت ہے مگر اس کی بیوی اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھی ادھر شیطان بھی زور لگا رہا تھا ہم اپنی شدید ضرورت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں خون کرنا ہماری خواہش نہیں مگر بھوک کا علاج تو بہرحال کرنا ہوگا اس کی بیوی اسے اسی طرح کے جھوٹے دلیل سے قائل کرتی رہیں بالآخر وہ اس کی باتوں میں آگیا اب وہ اپنے مہمان کو قتل کرنے اور اس کا مالچھیننے کی پلاننگ کرنے لگا۔رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا برفباری کا طوفان جاری تھا اور ادھر میاں بیوی خنجر تیز کر رہے تھے بیوی شوہر کو حوصلہ بھی دیتی جا رہی تھی۔ وہ باہر اپنے بیٹے اور مہمان کے کمرے میں داخل ہوا بیوی اس کے پیچھے پیچھے تھے وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے کے بائیں رخ مڑا جہاں اس نے اپنے ہاتھوں سے مہمان کے لیے نیا بستر بچھایا تھا۔ کمرے میں شدید اندھیرا تھا اس نے بستر ٹولہ پھر انداز سے گردن تلاش کی اور خنجر چلا دیا جس طرح بکری ذبح کیجاتی ہے اس طرح اسے ذبح کر دیا اس کی بیوی لپک کر آگے بڑھی اور لاش اٹھانے میں اس کی مدد کی۔

دونوں میاں بیوی دروازے پر لاش کھینچ کر لائے تو اچانک بجلی چمکی اور یکایک ان کی آنکھیں پتھرا گئیں یہ لاش ان کے اکلوتے بیٹے کی تھی انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے بیٹے کو ذبح کر دیا تھا۔ میاں بیوی کے حلق سے دل ہلا دینے والی چیخیں نکلی اور دونوں بے ہوش ہو کر گرپڑے چیخیں سن کر مہمان بھی جاگ اٹھا اور ان کے ہمسائے بھی بھاگے بھاگے آئے انہوں نے ان پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں تو انہیں ہوش آیا۔پولیس کو اطلاع ملی تو وہ فورا پہنچ گئی تھوڑی سی تفتیش کے بعد پولیس والے اصل حقائق تک پہنچ گئے قصہ یہ ہوا کہ جب رات کو اس کا والد مہمان کو الوداع کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تو مہمان اور اس کا بیٹا خاصی دیر تک باتیں کرتے رہے اس دوران اچانک لڑکے پر نیند نے غلبہ پا لیا اور وہ باتیں کرتے کرتے مہمان ہی کے بستر پر سو گیا مہمان نے اسے جگانا مناسب نہ سمجھا اور چپکے سے اٹھا اور لڑکے کے بستر پر آ کر سو گیا۔جب میزبان اسے قتل کرنے آیا تو اسے یقین تھا کہ وہ جسے قتل کر رہا ہے وہ مہمان ہی ہے۔اس دھوکے میں اس نے اپنا ہی بیٹا قتل کر ڈالا ہمسایوں نے اگلے دن اس نوجوان کو دفن کر دیا اور اس کے ماں باپ جیل خانے کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے۔ اس طرح ان لالچی میاں بیوی کو اپنے کیے کی سزا مل گئی یہ تو تھیں ان کے لئے دنیاوی سزا آخرت میں بارگاہ الہی میں جوابدہی کا کٹھن ترین مرحلہ باقی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: