خوشگوار زندگی سے مصیبت تک

ہماری زندگی کے ایام انتہائی خوشگوار بسر ہو رہے تھے ہم دونوں اللہ کی اطاعت کے کاموں میں ایک دوسرے کے معاون تھے قناعت پسندی ہمارا اصول تھا اور اللہ کی خوشنودی اور رضا مندی ہمارا شعار اور مطمح نظر۔ ہماری شیر خوار بچی گھر کا روشن چراغ تھی اس کی میٹھی میٹھی آواز ہمارے کانوں میں رس گھولتی رہتی تھی وہ ایک ایسی کلی تھی جو رب کریم کے فضل سے ہمارے آنگن میں کھل اٹھی۔

ہمارا معمول تھا کہ جب رات کی تاریکیاں اپنی کمندیں ڈال دیتی اور ساری دنیا نیند کے مزے لے رھی ھوتی تو بچی کو پلنگ پر سوتا چھوڑ کر میں اپنے شوہر کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی پھر ہم دونوں میاں بیوی اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح میں لگ جاتے ہیں پھر میرا شوہر نماز پڑھتا اور میں اس کے پیچھے کھڑی ہو کر مقتدی کی حیثیت سے نماز پڑھتی میرا شوہر انتہائی دلکش آواز میں ترتیل کے ساتھ قران پاک کی تلاوت کرتا اس کی آواز اس قدر دل پذیر تھی کہ میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسوجاری ہوجاتے تھے۔ ایک دن نجانے کیوں میرے دل میں دنیا کا لالچ آ گیا میں نے اپنے شوہر کے سامنے تجویز رکھی کہ کیوں نہ ہم سودی کاروبار میں اپنے لیے چند حصے خرید لیں تاکہ ہماری آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو اور اپنے بچوں کے لئے کچھ سرمایہ جمع کرسکیں۔شوہر راضی ہو گیا اور ہم نے اپنا پورا مال سودی کاروبار میں لگا دیا حتی کہ میری منگنی کا وہ زیور بھی اس میں شامل کر لیا جو میرے شوہر نے مجھے بطور تحفہ عنایت کیا تھا۔

مگر ہوا یہ کہ ہم نے جس کاروبار میں اپنے لیے حصے خرید رکھے تھے کساد بازاری کی وجہ سے اس میں خاصا خسارہ ہو گیا پھر وہ وقت آیا کہ ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہماری ساری دولت بتدریج ختم ہوتی گئی اب کیا تھا آج تک ہم مقروض ہوگئے اور ادائیگیوں کے بوجھ سے ہماری کمر ٹوٹنے لگی۔ کچھ دنوں بعد قرض کا اتنا بھاری بوجھ لد گیا کہ اس کی ادائیگی کے تصور سے بھی ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے اس وقت ہمیں اللہ کے اس ارشاد پر پختہ یقین ہو گیا۔” اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقے کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گناہ گار سے محبت نہیں کرتا۔”ایک روز ہم پریشان بیٹھے تھے رات کا وقت تھا گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا اچانک مایوسی اور بیزاری کی حالت میں کسی بات پر شوہر سے میرا جھگڑا ہوگیا میں نے اسے طلاق دینے کو کہا وہ غصے میں چیخ اٹھا جا تجھے طلاق جا تجھے طلاق جا تجھے طلاق۔

میں رو پڑی اور میری ننھی سی بچی بھی زار و قطار رونے لگی بچی کے آنسو نے ہمیں اس دن کی یاد تازہ کرا دی جب ہمیں اللہ کی اطاعت و بندگی نے اکٹھا کیا تھا اور آج معصیت ونافرمانی نے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔” وہ دونوں دن ناقابل فراموش ہے ایک دن وہ جس میں اطاعت الٰہی کی برکت نے ہمیں اکٹھا کیا اور دوسرا دن وہ جب معصیت الہی کی نحوست نے ہمیں جدا کر دیا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: