حضور ﷺ کی پیروی کرنے کےدو نتائج اور ظاہر ہوں گے

يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

(اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا ) یہ ایک عجیب بات ہے ۔۔۔۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ آپ کسی سے سے محبت کریں تو آپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرے ۔۔۔ چنانچہ اگر ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرنے لگے اور اس سے بڑھ کر ہمارے لیے سعادت کی اور کیا بات ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بنا دیا کہ تم اس سے جتنی محبت کرنا چاہو ۔۔ کرو لیکن تمہاری محبت اس وقت معتبر ہو گی جب تم میرےرسول کی پیروی کرو گے ۔ جب تم میرے رسول کا اتباع کرلو گے تو میں محبت کا جواب محبت سے دوں گا اور اگر میرے رسول کی پیروی نہ کی تومیری طرف سے محبت کا جواب محبت سے نہیں ملے گا۔

وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ

(اور تمہارے گناہوں کا بخش دیگا) معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے ۔۔۔ اسی طرح اگر اس سے گناہ ہو بھی جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمادیتے ہیں ۔۔۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے اپنے آپ کو سنت کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال دیاتھا ۔۔۔ لباس وپوشاک میں ۔۔۔گفتگو میں ۔۔ ۔کھانے پینے میں ۔۔۔اٹھنے بیٹھنے میں ۔۔۔چلنے پھرنے میں ۔۔۔۔ نماز میں ۔۔۔عبادات میں ۔۔۔معاملات میں ۔۔۔۔ تجارت میں ۔۔۔۔ محنت و مزدوری میں غرضیکہ ہر چیز میں وہ دیکھتے تھے کہ ہمارے رسول کا اس میں کیا طریقہ تھا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: