کس خلیفہ کے دور میں کیا ہوتا رہا

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں جیسا حکمران ہوتا ہے ویسے ہی عموما اس کی رعیت ہوتی ہے ۔ اب ذرا دیکھیں کس خلیفہ کے دور میں کیا ہوتا رہا۔ حجاج بن یوسف کا دور قتل و غارت اور فتنہ و فساد کا دور تھا کتنے ہی لوگ دلوں میں ٹھونسے گئے کتنے ہی قتل کر دیئے گئے ۔ صبح سویرے لوگوں میں اس قسم کی گفتگو ہوتی ۔

کل کس کو قتل کیا گیا کون سولی پر چڑھایا گیا اور کس کو کوڑے مارے گئے۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک عمارت بنانے اور کارخانے لگانے کا شوقین تھا۔ لوگ اس کے دور میں ایک دوسرے سے بلڈنگ بنانے کارخانہ لگانے نہریں کھودنے اور شجرکاری کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کا دور آیا وہ کھانے پینے کا شوقین تھا گانے بجانے سے بھی دل لبھا لیتا تھا۔ لوگ قسم ہا قسم کے کھانوں کی باتیں کرتے تھے۔ مغنیات اور لونڈیوں کا ذکر ہوتا اور مجالس میں شادی بیاہ اور تقریبات کے حوالے سے گفتگو ہوتی۔

اور جب عمر بن عبدالعزیز کا مبارک دور آیا تو لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے تم نے کتنے قرآن پاک حفظ کیا ہے۔ رات میں کتنے نوافل پڑھتے ہیں اس ماہ میں کتنے روزے رکھے ہلانے کتنا قرآن حفظ کر لیا ہے اور فلاں کا کب ختم ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: