حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی باتیں

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسو ل اللہ ﷺ کے قریبی ساتھی اور دوست تھے ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نانی رسو ل اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ بنے، آپ عرب کے سب سے دولت مند تاجر تھے ، دولت اور سخاوت کی وجہ سے لوگ آپ کو غنی کہتے ہیں۔حضرت عثمان غنی کو رسول اللہ ﷺ سے بے حد محبت تھی، آپ نے ہر موقع پر پیارے آقا ﷺ کا ساتھ دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کیا۔ مسلمان ہجر ت کرکے مدینے آئے ، تو انہیں پینے کے پانی کے حصو ل میں سخت مشکل پیش آئی، سارے سارے شہر میں پانی کا صرف ایک کنواں تھااس کا مالک یہودی تھا ۔جو بڑا لالچی اور سنگ دل شخص تھا ، وہ کنویں کا پانی فروخت کرتا تھا ، ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت کمزور تھی ،

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کیا۔ مسلمان ہجر ت کرکے مدینے آئے ، تو انہیں پینے کے پانی کے حصو ل میں سخت مشکل پیش آئی، سارے سارے شہر میں پانی کا صرف ایک کنواں تھااس کا مالک یہودی تھا ۔جو بڑا لالچی اور سنگ دل شخص تھا ، وہ کنویں کا پانی فروخت کرتا تھا ، ان دنوں مسلمانوں کی مالی حالت کمزور تھی ،

حضرت عثمان غنی اس کنویں کو خریدنے کے لیے بے تا ب تھے ۔ وہ اس شر ط پر کنواں بیچنے کے لیے تیار ہوا، کہ ایک دن کنویں پر میرا حق ہوگا اور دوسرے دن مسلمانوں کا۔ چنانچہ بارہ ہزار درہم میں یہ سودا طے پا گیا حضرت عثمان غنی چونکہ فطرتاً سخی تھے، اس لیے اپنی بار ی پر کیا مسلمان کیا یہودی سب کو جی بھر کر مفت پانی بھرنے دیتے۔ یہودی کی باری آئی تو کوئی بھی کنویں کا رخ نہ کرتا، جب یہودی نے دیکھا کہ اسے نفع نہیں ہور ہا ہے تو اس نے بقیہ حصہ بھی فروخت کرنے کی پیشکش کی، حضرت عثمان غنی نے باقی حصہ بھی آٹھ ہزار درہم میں خرید کر لوگوں کے لیے وقف کردیا۔

حضرت عثمان ایک بار وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے ، لوگوں نے وجہ پوچھی : تو آپ فرمانے لگے : ایک مرتبہ آقا ﷺ کو اسی جگہ پر وضو فرمانے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔ بعض دفعہ جرم کو معاف کرنا مجر م کو زیادہ خطرناک بنادیتا ہے ۔ آہستہ بولنا، نیچی نگاہ رکھنا، ایمان کی نشانی ہے ۔ اپنا بوجھ دوسروں پر نہ ڈالو ، خواہ کم ہو یا زیادہ۔ خاموشی غصے کو بہترین علاج ہے گن اہ کسی نہ کسی صورت میں دل کو بے چین رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کوئی امید نہ رکھو۔ زیادہ کھانا بھی ایک بیماری ہے حقیر سے حقیر پیشہ ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے نعمت اور عافیت کے ہوتے ہوئے زیادہ طلبی بھی شکوہ ہے ۔ زبان درست ہوجائے تو دل بھی درست ہوجاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: